Al-Risala · July 1998 · page 40

Its not my problem, its their problem.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰

ہے ۔ اس کے بعد میڈیا میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ فروری 1996ء میں امریکہ کی مشہور ٹی وی تنظیم اے بی سی کی نمائندہ باربرا والٹر (Barbara Walter) نے ایک انٹرویو کے درمیان کولن پاوِیل سے پوچھا کہ امریکہ میں سفید فام لوگ سیاہ فام لوگوں کے ساتھ امتیاز (discrimination) برتتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کے احساسات کیا ہیں؟ جنزل پاوِیل نے جواب دیا کہ یہ میرا مسئلہ نہیں، یہ تو ان کا مسئلہ ہے :

Its not my problem, its their problem.

امتیاز اور تعصب کے معاملے میں یہ بلا شبہ سب سے بہتر جواب ہے جو کوئی زیر تعصب شخص دے سکتا ہے۔

کراچی سے آئے ہوئے ایک مسلمان نے ایک مجلس میں بتایا کہ وہاں شادیوں میں کس طرح بہت زیادہ دھوم مچائی جاتی ہے اور بے پناہ دولت خرچ کی جاتی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آخر یہ لوگ اپنی کمائی کو شادیوں میں کیوں اتنا زیادہ برباد کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ مڈل کلاس یا لور کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر انھوں نے کافی پیسہ کما لیا۔ اب وہ شادیوں میں نمائش کرکے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اب میں کوئی غریب آدمی نہیں ہوں ۔ اب میں ایک با عزت شخص کی حیثیت رکھتا ہوں :

I am no longer a poor man. I am a very respectable person. پاکستان سے انگریزی میں ایک کوارٹرلی قرآنک ہورائزن (The Quranic Horizons) کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کا شمارہ جنوری ۔ مارچ 1996ء یہاں دیکھا۔ ایک پاکستانی دانش ور کا مضمون تھا۔ اس میں انھوں نے پاکستان کی موجودہ حالت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکی ریڈیو ، ناول ، میگزین وغیرہ کی آسان دستیابی (easy availability) کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تیزی سے ویسٹرنائزیشن کا عمل ہو رہا ہے۔ بظاہر ان کا مطلب یہ تھا کہ اس کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ ان کے خیال کے مطابق ، حکومت اگر ان چیزوں کی آمد پر پابندی لگا دے تو پاکستانی معاشرہ ان کی برائیوں سے محفوظ ہو جائے گا۔

یہ بالکل بے معنی بات ہے۔ کسی ملک میں ان چیزوں کی آمد دراصل زمانہ کا تقاضا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page