Al-Risala · January 1998 · page 38

دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸

کارکن محمود (۲۰ سال) بھی پوری طرح بھیگ گیا۔

مالک مکان اس وقت دکان پر موجود نہیں تھے۔ کچھ دیر کے بعد وہ آئے تو وہ غصہ نہیں ہوئے۔ بلکہ تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ مذکورہ ہندو کا مقصد مسلم دکان میں رنگ پھینکنا نہیں تھا۔ وہ سامنے کے ایک اور شخص کے اوپر پھینک رہا تھا۔ وہ شخص بیٹھ گیا۔ اس طرح پوری بالٹی کا رنگ مسلم دکان میں آگیا جو قریب ہی بالکل سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ مسلم دکان دار نے فوراً اپنی دکان بند کردی اور اس کے بعد رنگ کی صفائی کرا دی۔

میں نے کہا کہ فرقہ وارانہ فساد کو روکنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں جو اس معاملے میں مفید ہو سکتی ہو۔

مراد آباد کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں میں اب بہت بدلاؤ آیا ہے۔ پہلے یہ تھا کہ کوئی جھگڑے کی بات ہوتی تو دونوں کمیونٹی کے لوگ خود ہی ایک دوسرے سے الجھ جاتے تھے۔ اس سے فساد ہوتا تھا۔ اب یہ حالت ہے کہ کوئی جھگڑے کی بات ہوتی ہے تو دونوں طرف کے لوگ فوراً پولیس کو خبر کرتے ہیں۔ پولیس والے موقع پر پہنچتے ہیں تو ہر کمیونٹی خود یہ بتاتی ہے کہ دیکھو فلاں آدمی گڑ بڑ کر رہا ہے، اس کو پکڑ لو۔ اس طرح پولیس کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ چند لوگوں کو پکڑ کر تنبیہ کر دی جاتی ہے، بات وہیں کی وہیں ختم ہو جاتی ہے فساد تک پہنچنے کی نوبت نہیں آتی۔

امر اجالا اس علاقہ کا سب سے بڑا ہندی روز نامہ ہے۔ ۱۰ مارچ کو اس کے ایک نوجوان نمائندہ انٹرویو کے لیے آئے ۔ میں نے نام پوچھا تو انھوں نے اپنا نام وجے عالم بتایا۔ اس نام سے ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہندو ہیں یا مسلمان۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ اس طرح کا نام انھوں نے جان بو جھ کر رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک حلقہ ہے جس کا کہنا ہے کہ دیش میں ساری گڑ بڑ ہندو ناموں اور مسلم ناموں کی وجہ سے ہے۔ اگر نام ایسے رکھے جائیں جس میں آدمی کی مذہبی شناخت چھپ جائے تو سماجی جھگڑے بھی ختم ہو جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ بہت سے ہندو ہیں جنھوں نے اپنا نام اس طرح رکھا ہے۔ یہ انٹرویو ۱۱ مارچ کے اخبار میں شائع ہوا۔ اس کو یہاں اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page