Al-Risala · July 1998 · page 41

Its not my problem, its their problem.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱

نہ کہ حکومت کی پالیسی کا نتیجہ۔ موجودہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ آج کسی بھی قوم کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دنیا سے الگ اپنا جزیرہ بنا سکے۔ پاکستان میں ضیاء الحق صاحب نے اس قسم کا جزیرہ بنانا چاہا تو پہلے ہی الیکشن میں ضیاء الحق کی ٹیم کو عوام نے رد کر دیا ایسی حالت میں نہ تو علاحدہ جزیرہ بنانا ممکن ہے، اور اگر کوئی ایسا جزیرہ بنانے کی کوشش کرے تو جمہوری دور میں اس کا بقا ممکن نہ ہوگا۔

۲۳ اگست کو جمعہ کا دن تھا۔ پروگرام کے مطابق، جمعہ کی نمازیہاں کی مسجد العابدین میں پڑھی۔ جمعہ کا خطبہ اور امامت دونوں میرے ذمہ تھا۔ میں نے خطبہ کے ساتھ انگریزی میں کچھ جمعہ کے بارے میں کہا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے سورہ الجمعہ کا آخری رکوع پڑھا اور پھر انگریزی میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ دینی زندگی کے تقاضے اور معاشی زندگی کے تقاضے دونوں کو کس طرح پورا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں آیات سے اخذ کر کے تین اصول بیان کیے (اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں)

نماز کے بعد کچھ لوگ مسجد میں ٹھہر گئے' ان سے گفتگو ہوتی رہی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ : دوسری قو میں ہمارے لئے مد عو ہیں نہ کہ حریف اور رقیب۔ مسجد العابدین کے امام ضمیر ستار صاحب ہیں۔ ان کا تعلق گیا نا سے ہے۔ انھوں نے مدینہ کی الجامعۃ الاسلامیہ میں تعلیم حاصل کی ۔ اب یہاں بطور امام خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ انگریزی اور عربی دونوں زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔

مسجد میں جناب سید نایاب حسن رضوی (۵۰ سال) سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا : کوئی کہتا ہے کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہودی دشمن ہیں۔ کوئی کسی اور کو دشمن بتاتا ہے۔ یہ سب بے معنی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنے دشمن ہیں۔

ایک صاحب ہم لوگوں کو اپنے فلیٹ پر لے گئے ۔ وہاں ان سے ملا ہوا ایک اور فلیٹ تھا۔ اس کے دروازہ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ میں بنگلہ دیش سے محبت کرتا ہوں: I love Bangladesh

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page