Its not my problem, its their problem.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲
مجھے نہیں معلوم کہ امریکہ میں مقیم بنگلہ دیشی بھائی نے یہ جملہ کس معنی میں لکھا تھا۔ لیکن مجھے اگر اپنے وطن سے محبت ہے تو میرے لیے میری حب الوطنی کا تقاضا یہ ہو گا کہ میں اپنے وطن میں رہ کر اس کی خدمت کروں ، نہ کہ اس کو چھوڑ کر باہر چلا جاؤں۔ چنانچہ یہاں کچھ لوگوں نے پیش کش کی کہ آپ امریکہ میں رہ جائیے، آپ کی زیادہ ضرورت یہاں ہے۔ مگر میرے دل نے کہا کہ ابھی میں اپنے وطن کا حق ادا نہ کر سکا۔ پھر میں اس کو چھوڑ کر یہاں کیسے آ سکتا ہوں۔ ــــــــــ یہ سورہ الجمعہ کی آیتیں ہیں جو قرآن کی ۶۲ ویں سورہ ہے۔ اس میں مختصر طور پر بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں دین اور معاش کے دو طرفہ تقاضے کے درمیان توازن کس طرح رہنا چاہیے ۔
معاشی سرگرمی آدمی کی فطری ضرورت ہے۔ اس لیے اسلام میں اس کی مکمل اجازت دی گئی ہے ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ معاشی سرگرمیاں دینی تقاضے کے تحت ہوں نہ کہ اس سے آزاد ۔ ہر آدمی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرے ۔ البتہ اس کی چند شرطیں ہیں (۱) اس کو جو کچھ ملے اس کو وہ سرا سر اللہ کا فضل سمجھے (۲) معاشی سرگرمیوں کے درمیان وہ خدا کو برابر یاد کرتا رہے (۳) وہ اپنی معاشی سرگرمیوں کو جائز حدود کے باہر نہ جانے دے۔
معاشی سرگرمی اور دینی تقاضے میں توازن کی صورت یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اور ہر حال میں تیار رہے کہ جب بھی دین کی کوئی پکار سامنے آئے گی وہ معاشی تقاضے کے مقابلہ میں دینی تقاضے کو ترجیح دے گا۔ دینی مطالبہ کو پورا کرنے کے بعد اسے حق ہے کہ وہ دوبارہ اپنی معاشی سرگرمی کی طرف واپس چلا جائے (الجمعه ۹-۱۱) امریکہ میں مقیم پاکستانی مسلمان ہر سال نہایت اہتمام کے ساتھ یہاں اپنا "قومی میلہ" مناتے ہیں ۔ یہ میلہ امریکہ کے مختلف مقامات پر ہوتا ہے ۔ نیو یارک سے اردو ۔ انگریزی میں پاکستانی مسلمان ایک اخبار نکالتے ہیں ۔ اس کا نام ہے ــــــــــ وطن امریکہ۔ اس کے شمارہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۶ میں پورے صفحہ کا ایک اعلان تھا۔ تھا۔ بروکلین میلہ کمیٹی کے زیر اہتمام ساتواں بروکلین میلہ کا اشتہار تھا۔ یہ میلہ ۸ اگست ۱۹۹۶ کو ہوا۔ اس کی تفصیل دیتے ہوئے اس میں لکھا تھا :
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues