Its not my problem, its their problem.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳
یاد رکھیے ، بروکلین میں کونی آئرلینڈ ایونیو کا یہ میلہ ہماری قومی شناخت ہے۔
ہندستانی مسلمان اگرہندستان میں اپنی مسلم شناخت کی دھوم مچائیں، یا پاکستان کے ہندو وہاں اپنی قومی شناخت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ملکوں میں اس کا مخالفانہ رد عمل یقینی ہے۔ مگر امریکہ میں ہر ملک کے لوگ اس طرح کی تقریبیں کرتے ہیں اور یہاں کوئی بھی اس کے خلاف کچھ نہیں بولتا ـــــ اسی فرق میں ہندستان اورپاکستان کی بربادی اور امریکہ کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
امریکہ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگ بہت زیادہ ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ پاکستان پاک لینڈ کے نام پر بنایا گیا اور بنگلہ دیش سونار بنگلہ کے نام پر۔ مگر جب وہ بن گیا تو لوگ اپنے پاک ملک اور اپنے سنہرے ملک کو چھوڑ کر امریکہ بھاگے چلے آ رہے ہیں، ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے کہا: یہاں انسان کی قدر ہے۔ اپنے یہاں تو یہ حال ہے کہ کوئی کسی کو بڑھتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتا۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر پاک دنیا اور سنہری دنیا کا نعرہ لگانے والوں کو سب سے پہلے انسان بنانے کی تحریک چلانا چاہیے تھا۔ نیویارک میں امان اللہ خان صاحب حیدر آبادی (پیدائش ۱۹۲۰) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پی وی نرسمہاراو کے کلاس فیلورہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ نرسمہاراؤ ہمارے اسکول میں ہمیشہ اول رہتے تھے۔ انھوں نے بہت سے واقعات بتائے مثلاً ایک بار انھیں میتھمیٹکس کے دس سوال دیے گئے اور کہا کہ ان میں سے سات کو حل کیجئے۔ نرسمہاراو نے کہا آپ خود ان میں سات کو چن کر مجھے بتا دیجئے (select any seven) میں نے کہا کہ وہ اچھے پرائم منسٹر ثابت نہ ہو سکے۔ انھوں نے کہا :
He is only a scholar. He is not a good administrator. ایک صاحب نے گفتگو کے دوران ایک لطیفہ بتایا کہ ایک بار ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبہ میں ایک شیعہ عالم سفر کر رہے تھے۔ اس میں عیسائی عالم بھی موجود تھے۔ تعارف کے بعد عیسائی عالم نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ محمد خدا کے محبوب تھے۔ اور محمد غیب کی باتیں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues