Al-Risala · July 1998 · page 44

Its not my problem, its their problem.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴

بھی جانتے تھے۔ محمد کو پتہ ہوناچاہیے کہ میرا نواسہ حسین بے دردی کے ساتھ قتل کیا جانے والا ہے۔ پھر محمد نے اپنے خدا سے کیوں نہ کہا کہ اے خدا، میرے نواسے کو قاتلوں کے ہاتھ سے بچا لے۔ شیعہ عالم نے کہا : اصل یہ ہے کہ محمد نے خدا سے یہ بات کہی تھی۔ مگر خدا نے جواب دیا کہ اے محمد، میں اپنے بیٹے کو سولی پر چڑھائے جانے سے نہ بچا سکا، پھر تمہارے نواسے کو میں کیسے بچاؤں گا۔

جناب افتخار محمد صاحب (۳۳ سال) نے میری کتابیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ سیاسی اقتدار سے ٹکرانا اور مکمل نظام قائم کرنا امت مسلمہ کا نصب العین نہیں۔ ۔ حالاں کہ قرآن میں ہے کہ : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف)

میں نے کہا کہ اس آیت کا حکومت اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ اس کے الفاظ پر غور کیجئے ۔ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ کہ دین توحید کو دوسرے دینوں پر غالب کر دو۔ اب دیکھئے کہ یہ دوسرے جو ادیان ہیں ان کی نوعیت کیا تھی۔ ان میں سے کوئی بھی مذہب سیاسی اقتدار یا سیاسی نظام کی حیثیت نہیں رکھتا تھا، نہ پہلے اور نہ اب ۔ ان میں سے ہر ایک مذہب کی حیثیت صرف اعتقادی یا عبادتی نظام کی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان میں سے ہر مذہب الہیاتی نظام (theological system) ہے نہ کہ کوئی سیاسی نظام۔ اگر آپ خود ساختہ الفاظ کو آیت میں شامل نہ کریں بلکہ صرف آیت کے الفاظ کی روشنی میں اس کا مفہوم متعین کریں تو وہ یہ ہو گا کہ توحید پر مبنی نظریہ کو شرک پر مبنی نظریہ کے اوپر غالب کر دو۔

میں نے کہا کہ یہ واقعہ پورے معنی میں ظہور میں آ چکا ہے۔ تمام دوسرے ادیان نظری اور فکری اعتبار سے مغلوب ہو چکے ہیں۔ اب صرف توحید ہے جس کو عالمی سطح پر آئیڈیولوجیکل سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے۔

محمد ابراہیم خان صاحب (۴۹سال کا ۶ اگست کو دل کا آپریشن (بائی پاس سرجری) ہوا ہے۔ انھوں نے کپڑا ہٹا کر دکھایا۔ پاؤں میں پنڈلی کے مقام سے کھال کو چیر کر آرٹری

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page