Al-Risala · July 1998 · page 45

Its not my problem, its their problem.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵

نکالی گئی اور اس کو دل کے ساتھ جوڑ دیا۔ سینہ میں بالکل بیچ میں لمبا نشان دکھائی دے رہا تھا۔ اس آپریشن پر ۳۷ ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔ اور اس کو کرنے والے ڈاکٹر سپرائیم تھے۔ انھوں نے بتایا کہ چالیس ہزار ڈالر صرف ڈاکٹر سپرائیم کی فیس تھی۔ وہ اتنے ایکسپرٹ ہیں کہ آج امریکہ میں ان کی دھوم مچی ہوئی ہے۔

اس بار میرا امریکہ کا سفر بہت لمبا تھا۔ ۱۹ اگست ۱۹۹۶ کی شام کو دہلی سے روانہ ہوا۔ اور دوبارہ ۲۱ ستمبر کو دہلی واپسی ہوئی ۔ بعض دوستوں نے اخلاص کے تحت اتنا لمبا پروگرام بنا دیا۔ حالانکہ میرے جیسے کمزور آدمی کے لیے اس قسم کا پروگرام بہت زیادہ خلاف مزاج تھا۔ امریکہ میں مجھے ہر قسم کی اعلیٰ سہولت حاصل تھی۔ بظاہر ہر قسم کا آرام تھا۔ مگر میں مسلسل پریشان رہتا تھا۔ ایک دن بھی ایسا نہیں تھا جو چین کے ساتھ گزرارہ ہو۔ ایک روز بے قراری کے عالم میں بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میں نے کہا : خدایا ، دنیا میں مجھ کو آرام بھی برداشت نہ ہوسکا۔ پھر آخرت کی تکلیف کو میں کس طرح برداشت کروں گا۔ موجودہ سفر سمیت ، امریکہ کے لیے میرے سفروں کی تفصیل یہ ہے :

پہلا سفر نومبر ۱۹۸۵ دوسرا سفر دسمبر ۱۹۸۸ تیسرا سفر نومبر ۱۹۹۰ چوتھا سفر جنوری ۱۹۹۴ پانچواں سفر اگست ۱۹۹۶ ۲۳ اگست کی شام کو ہم لوگ بذریعہ روڈ پنسلوانیا گئے ۔ یہ نیو یارک سے ۶۵ میل کا سفر تھا۔ یہ سفر جناب قطب الدین حسین انجینیر کی دعوت پر ہوا۔ خواجہ کلیم الدین صاحب ، ان کے صاحبزادے بلال اور میں ، ہم تین آدمیوں نے رات ان کے مکان پر گزاری ۔ صبح کو ہم لوگ ٹرنٹن (Trenton) گئے ۔ یہاں کی خوب صورت مسجد میں فجر کی نماز پڑھی گئی۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے انگریزی میں درس دیا۔ اس کے بعد چائے سے فارغ ہو کر دوبارہ مسجد کے وسیع بیسمنٹ میں لمبی نشست ہوئی۔ اس میں عرب اورنومسلم امریکی بھی شریک

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page