Its not my problem, its their problem.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶
تھے، اس لیے یہاں بھی انگریزی میں تقریر کرنا پڑا۔ تقریر کے بعد دیر تک سوال وجواب کی صورت میں یہ مجلس جاری رہی۔ درس کا خلاصہ صفحہ کے نیچے درج ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مرنے کے بعد آنکھ کا عطیہ دینا اسلام میں جائز ہے اور اس کے شرعی دلائل پیش کیے ۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ آنکھ اور دوسرے اعضاء سے حشر میں سوال کیا جائے گا۔ پھر ان کا عطیہ ہم کیسے دے سکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ مردہ کو دفن کرنے کے کچھ دنوں بعد اگر آپ قبر کھود کر دیکھیں تو وہاں صرف ہڈیاں ہڈیاں پڑی ہوئی ہوں گی ۔ اب سوال یہ ہے کہ آدمی کا سارا جسم (بشمول آنکھ) کہاں چلا گیا ۔ وہ کیڑے مکوڑوں کی نذر ہو گیا جو انھوں نے جبری عطیہ کے طور پر لے لیا۔
۲۴ اگست کی صبح کو دوبارہ ہم لوگ نیویارک کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں جناب خواجہ کلیم الدین صاحب سے گفت گو ہوتی رہی۔ میں نے پوچھا کہ ہمارے یہاں سے جو انگریزی کتابیں چھپی ہیں ، ان کی زبان کے بارے میں یہاں کے اہل زبان لوگوں کا تاثر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس کی زبان کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتابیں امریکہ میں لکھی گئی ہیں ۔
ایک واقعہ پیش آیا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ یہاں جب تک آدمی غلطی نہ کرے یہ لوگ مداخلت نہیں کرتے ۔
۲۴ اگست کی شام کو جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے دو نوجوانوں کے نام یہ تھے ۔ مسٹر مشتاق گوہر ، مسٹر عامر صدیقی ۔ دونوں ذہین ہیں اور اسی کے ساتھ اسلام پسند بھی ۔ ان سے موجودہ مسلم دنیا کے حالات پر گفت گو ہوئی ۔ دونوں ہمارے لٹریچر کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ مشتاق گوہر صاحب نے کہا کہ آپ کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ مجھے آپ کی باتوں سے اتفاق ہے۔ مگر یہ بتائیے کہ کیا یہ تحریک کی صورت میں بھی کہیں چل رہی ہے ۔ میں نے کہا کہ تحریک تو ہر جگہ چل رہی ہے ۔ اور آپ خود بھی اسی تحریک کی ایک مثال ہیں۔ ایک صاحب نے پہلے حبیب اور خلیل کے لغوی معنی پوچھا۔ پھر پوچھا کہ دونوں میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues