Al-Risala · July 1998 · page 47

Its not my problem, its their problem.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷

زیادہ اہم کون ہے۔ اس کے بعد خود ہی کہا کہ ابراہیم خلیل اللہ تھے، اور ہمارے پیغمبر حبیب اللہ تھے۔ اور حبیب اللہ کا درجہ بلا شبہ خلیل اللہ سے بہت زیادہ ہے۔

امریکی کلچر میں بچوں کے اندرخود تعظیمی (self-esteem) کی صلاحیت پیدا کرنے کی بہت زیادہ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بڑھتے بڑھتے وہاں تک جا پہنچی ہے جس کو بھرم کہا جاتا ہے۔ نیو یارک ٹائمس میں اس رجحان کے خلاف ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس میں ایک قصہ بتایا گیا تھا کہ ریاضی کا ایک سوال ایک امریکی بچہ کو دے کر پوچھا گیا کہ کیا تم اس کو کرو گے۔ اس نے فوراً کہا کہ ضرور (Oh, sure) پھر اسی سوال کو ایک جاپانی بچہ کو دے کر یہی سوال کیا گیا تو اس کا جواب یہ تھا کہ میں کوشش کروں گا (I will try) اس کے بعد جب دونوں سے کہا گیا کہ سوال کو حل کرو تو جاپانی بچے نے ٹاپ کیا اور امریکی بچہ صرف ایوریج نمبر لاسکا۔ ۲۵ اگست کو ظہر کی نماز فلشنگ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد مسجد میں تقریر کا پروگرام تھا۔ یہ مسجد تقریباً ۲۰سال سے مسلمانوں کے پاس تھی۔ اب اسی سال اس کو شاندار اسلامک سنٹر کی صورت میں تعمیر کرایا گیا ہے۔ اندر اور باہر دونوں طرف سے نہایت خوب صورت ہے اور بالکل جدید طرز پر اس کو بنایا گیا ہے۔

۲۵ اگست کی شام کو ہم لوگ دوبارہ مسجد العابدین پہنچے۔ یہاں کے امام شیخ ضمیر ستار (گیانا) نے خواہش ظاہر کی تھی کہ میں دوبارہ یہاں آؤں اور نماز مغرب کے بعد لوگوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں بتاؤں۔

میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے کہ: کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله ۔

سلفی حضرات اپنے کو صحیح العقیدہ کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ مطلوب عقیدہ پر قائم ہیں۔ مگر میرا بار بار کا تجربہ ہے اور دوسروں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ ان لوگوں کے اندر مطلوب عقیدہ والے اوصاف نہیں ہوتے۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلوب عقیدہ اگر کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد لازمی طور پر اس کے اندر خشوع اور تواضع کی صفت پیدا ہونی چاہیے۔ مگر ان لوگوں کے اندر بر عکس طور پر قساوت اور کبر کا مزاج دکھائی دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page