Al-Risala · July 1998 · page 48

Its not my problem, its their problem.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸

اردو اکیڈمی کی طرف سے ۲۸ مارچ ۱۹۹۸ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار مولانا ابو الکلام آزاد کے بارے میں تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی ۔ اور مولانا آزاد کی شخصیت پر تقریر کی۔ یہ تقریر انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ ۲۔ سہارامیگزین (انگریزی) کے نمائندہ نے ۶ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ موجودہ سیاسی حالات کی نسبت سے مسلمانوں کا موقف کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔

راشٹریہ سہارا میگزین کے نمائندہ مسٹر ایم جے انصاری نے ۱۰ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر نئے سیاسی حالات میں مسلمانوں کے مستقبل سے تھا۔ اس سلسلہ میں ان کو اسلام کا نقطہ نظر بتایا گیا۔

۵۔ آؤ ٹ لک کے نمائندہ رنجیت بھوشن نے ۱۵ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس بات سے تھا کہ ہندوستان کے نئے سیاسی نقشہ میں مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ کوئی بھی سیاسی نقشہ صرف وقتی طور پر اور محدود طور پر ہی کام کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ مسلمانوں کے لئے کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک ان میں مثبت طرز فکر پوری طرح نہ آسکا۔ میری نظر میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ خود مسلمانوں کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ کی غیر موجودگی ہے نہ کہ کسی خارجی خطرہ کی موجودگی۔

آؤٹ لک ویکلی نیوز میگزین کے نمائندہ رنجیت بھوشن نے ۱۵ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ”ہندو فرقہ پرستی اور مسلمان“ کے مسئلہ سے تھا۔ ان کو بتایا گیا کہ۔ قرآن کے مطابق مسلمان کے لئے خطرہ صرف ان کی کمزوری ہو سکتی ہے۔ باہر سے ان کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page