سفر غیر مرغوب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۵
اسی طرح دنیا میں زندگی کی بہت سی راہیں ہیں ہر راہ پر بے شمار آدمی چل رہے ہیں۔ ہر ایک کے خطوط مقرر ہیں اور ہر ایک پر چلنے کے لیے مخصوص آسانیاں مہیا کی گئی ہیں۔ مگر ان بے شمار راستوں کے درمیان صرف ایک ہی صراط مستقیم ہے جو آدمی کو اس کی صحیح منزل کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی اگر صراط مستقیم کا ارادہ کرکے کسی اور راہ پر چل پڑے یا کسی راہ میں آدمیوں کی بھیڑ دیکھ کر اس کو اختیار کرلے کہ جب اتنے سارے آدمی اس پر جارہے ہیں تو ضرور یہ کوئی صحیح راہ ہوگی۔ تو کیا ان تمام صورتوں میں وہ منزل پر اسی طرح لازماً پہنچ جائے گا جس طرح اصل راہ کو اختیار کرنے کی صورت میں وہ پہنچتا۔ اگر دنیا میں ہر چلتی ہوئی گاڑی وہیں نہیں جاتی جہاں آدمی کو جانا ہے تو آخرت کی منزل کے متعلق کیوں لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بہر حال آجائے گی چاہے ہم کسی بھی طرف دوڑ رہے ہوں۔
سفر غیر مرغوب
سفر میرے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ ایک سفر کے دوران ایک عرب عالم سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ "انا رجل يحب العزلة" میں ایک تنہائی پسند آدمی ہوں مگر حالات کے تحت مجھے بار بار سفر کرنا پڑا۔ ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی، خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی۔ بوقت تحریر (فروری ۱۹۹۸) میرے ہوائی سفروں کی تعداد تقریباً سوا سو ہو چکی ہے۔ ٹرین وغیرہ کے ذریعہ جو اسفار ہوئے ان کی تعداد اس کی دگنا سے بھی زیادہ ہوگی۔ میرا حال یہ ہے کہ ہر سفر مجبوری کے تحت کرتا ہوں اور جب واپس آتا ہوں تو اس احساس کے ساتھ کہ آئندہ میں کبھی سفر نہیں کروں گا۔ اس کے باوجود مشن کا تقاضا دوبارہ نئے سفر کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔
فروری ۱۹۹۸ میں میرا ایک سفر امریکہ کے لیے ہوا۔ وہاں واشنگٹن میں ۶۔ ۷ فروری کو ایک سیمنار تھا۔ اس کے بعد وہاں ایک اور کانفرنس ۲۱ مارچ ۱۹۹۸ کو ہونے والی تھی۔ لوگوں نے بہت زیادہ اصرار کیا کہ میں امریکہ میں مزید ٹھہروں اور ۲۱ مارچ کی کانفرنس میں شرکت کے بعد ہندوستان واپس جاؤں۔ مگر ہر قسم کی سہولت کے باوجود میں سفر سے اتنا زیادہ اکتايا ہوا تھا کہ زبردستی واپس چلا آیا۔ سفر امریکہ واشنگٹن (ڈی سی) میں کچھ اہل علم امریکیوں نے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ جس کا نام نان وائلنس انٹرنیشنل ہے۔ اس کے صدر ایک نو مسلم پروفیسر عبد الکریم کرو ہیں۔ اب تک اس کے دو اجلاس
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues