الرسالہ مشن
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸
اسی فکری غلطی میں مبتلا ہیں وہ علمی طرز فکر سے آشنا نہیں اس لیے وہ ایسی باتیں کہتے ہیں ، ہیں،جو اہلِ علم کی نظر میں کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں ۔
الرسالہ مشن
یہ اللہ کا فضل ہے کہ امریکہ کے کچھ لوگوں کے تعاون سے الرسالہ مشن اب انٹرنٹ پر آگیا ہے، اور مزید اس کو ویب سائٹ پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس میں دو صاحبان کا خاص حصہ ہے۔ جناب خواجہ کلیم الدین صاحب اور فاروق چشتی صاحب۔ خواجہ کلیم الدین صاحب اسی وقت سے میرے ساتھ ہو گئے تھے جب کہ میں واشنگٹن ایرپورٹ پر اترا۔ فاروق چشتی صاحب ٹرین سے سفر کرکے ۲ فروری کی شام کو واشنگٹن پہنچے۔ وہ کمپیوٹر کے ایکسپرٹ ہیں۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ فاروق صاحب کی فنی مہارت اور کلیم الدین صاحب کا اخلاص اکٹھا ہوا تو اتنا بڑا کام ہوا کہ الرسالمشن قدیم عہد سے نکل کر جدید عہد میں داخل ہو گیا۔ صحیح انداز امریکہ کے سفر میں جو سبق آموز چیزیں میں نے دریافت کیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ امریکہ کی ترقی کا راز کیا ہے۔ نادان لوگ امریکہ کی ترقی کا راز مفروضہ سازشوں میں تلاش کر رہے ہیں مگر یہ توجیہہ لغو یت کی حد تک بے اصل ہے۔ امریکہ کی ترقی کا راز اس کی دوسوسالہ تعمیری جدوجہد ہے۔ یہ اس کے حقیقی عمل کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی قسم کی سازش کا نتیجہ ۔
اس موضوع پر میں نے بہت سے امریکیوں سے گفتگو کی اور مطبوعہ ریکارڈ میں بھی اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔ میری دریافت کے مطابق امریکہ کی امتیازی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کو اپنی زندگی کے آغاز میں ایسے لیڈر اور رہنما ملے جنھوں نے اس کو صحیح اور قابل عمل رہنمائی دی۔ موجودہ دنیا میں کسی قوم کی حقیقی ترقی لمبے عمل کے بعد ہوتی ہے، ایسا عمل جو کئی جنریشن تک جاری ر ہے ۔ امریکہ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو اپنی جدوجہد کے آغاز میں ایسے لیڈر ملے جنھوں نے اس کو ایسا پروگرام دیا جو موجودہ اسباب کی دنیا میں قابل بقا (sustainable) تھا، جو ہر قسم کے اتار چڑھاؤ اور گرم وسرد کے باوجود نسل در نسل جاری رہ سکتا تھا۔ امریکہ کی موجودہ ترقی دراصل اس کی دوسو سالہ قومی جدوجہد کا مجموعی نتیجہ ہے۔ اگر امریکہ کے رہنما اپنی قوم کو ایسے راستوں پر چلاتے جس کا تسلسل
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues