Al-Risala · January 1998 · page 40

دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰

انٹرویو کے بعد غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ۹۲ - ۱۹۹۳ میں کمیونل فیلنگ کا زور تھا، اب کاسٹ ازم کا زور ہے۔ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوؤں میں کاسٹ ازم جتنا بڑھا ہے اس نسبت سے ان میں کمیونل فیلنگ گھٹ گئی ہے۔

یہاں کے دوران قیام میں کچھ اخبارات دیکھے۔ ہندی اخبار امر اجالا (۹ مارچ ۱۹۹۶) کے درمیانی صفحہ پر مسٹر سریندر موہن کا مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : بھرشٹا چار کو چناؤ مدا بنانا ہی چاہیے۔

اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ملک میں بھرشٹا چار کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مگر بھر شٹا چار بذات خود کوئی انتخابی اشو نہیں ۔ یہ تو صرف حکمرانوں کے خلاف چیخ پکار ہے۔ چناؤ مدا صرف کوئی مثبت پروگرام ہو سکتا ہے۔ یعنی وہ پروگرام جس میں یہ یقین کیا جا سکے کہ بھر شٹا چار کو ختم کرنے کا اس میں حل موجود ہے۔ بھر شٹا چار کو چناؤ مدا بنانا بھر شٹا چار کا ایکسپلانئشن ہے۔ آج اصل مسئلہ متبادل سیاسی نظام کا ہے نہ کہ موجودہ نظام کے خلاف چیخ پکار کر کے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کرنا۔

۱۰ مارچ کی شام کو طویل اسٹریٹ گیا اور وہاں کی مسجد میں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔ یہاں جناب اقبال احمد صاحب (23029 .Tel) کے مکان پر اجتماع ہوا۔ مغرب اور عشاء کے درمیان یہاں ایک تقریر ہوئی۔ عشاء کے بعد دوبارہ نشست ہوئی۔ یہ نشست سوال و جواب کے لیے تھی۔ پروگرام مجموعی طور پر کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

۱۱ مارچ ۱۹۹۶ کی صبح کو مراد آباد سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ راستہ میں مختلف سبق آموز مناظر دکھائی دیے۔ مثلاً ایک جگہ ٹرک الٹا ہوا پڑا تھا۔ آج کل شہر کے باہر جس سڑک پر نکلئے جگہ جگہ ٹرک الٹے ہوئے یا ٹکراکر ٹوٹے ہوئے دکھائی دیں گے۔ میں نے کئی ٹرک والوں سے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ مگر کوئی ایک وجہ سامنے نہ آ سکی۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ میں آزادی نے ہر آدمی کو غیر محتاط بنا دیا ہے ۔ غالباً یہ غیر محتاط انداز میں گاڑی کو دوڑانے کا نتیجہ ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ خدا کے وجود کو ماننے کے لیے عقلی دلیل کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page