دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱
آپ راستہ چلتے ہوئے سڑک کے کنارے ایک شاندار بلڈنگ دیکھتے ہیں جو فرنیچر اور دوسری تمام ضروریات کے ساتھ آراستہ ہے۔ اس بلڈنگ کے بارہ میں آپ کبھی یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ اس کو آرکیٹیکٹ نے تیار کرایا ہے۔ یہاں آپ کے لیے انتخاب بلڈنگ مع انجینئر اور بلڈنگ بغیر انجینئر میں نہیں ہے بلکہ اصل انتخاب بلڈنگ مع انجینئر اور غیر موجود بلڈنگ میں ہے۔ چونکہ آپ غیر موجود بلڈنگ کا چوائس نہیں لے سکتے، اس لیے آپ مجبور ہیں کہ بلڈنگ مع انجینئر کا چوائس لیں۔ ٹھیک یہی معاملہ خدا کا ہے۔ بلڈنگ ہی کی مانند آپ اپنے کو اور ایک عظیم کائنات کو دیکھ رہے ہیں۔
The choice is not between universe with God and universe without God. The real choice is between universe with God or no universe at all. چونکہ آپ کائنات کا انکار نہیں کر سکتے، اس لیے آپ مجبور ہیں کہ خدا کو مانیں۔ جس طرح آپ بلڈنگ کا انکار نہ کرنے کی وجہ سے اس کے انجینئر کو ماننے پر مجبور ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میرے پاس الرسالہ کیسٹ کاسیٹ ہے۔ میں ان کو بہت سے لوگوں کو سنا چکا ہوں۔ لوگ سن کر پسند کرتے ہیں اور اتفاق کرتے ہیں۔ مگر ان میں حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر بے حسی آتی جا رہی ہے۔ آخر جس چیز سے وہ اتفاق کرتے ہیں اس پر عمل کیوں نہیں کرتے۔
حقیقت یہ ہے کہ اعتراف سب سے اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ انسانیت کی بلندی یہ ہے کہ جس نقطہ نظر کو آدمی صحیح سمجھے اس کو عملی طور پر اپنی زندگی میں اختیار کرلے۔ کسی انسان کے زندہ یا مردہ ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔
امر اجالا (۱۱ مارچ 1996) میں ایک مضمون کھیل کے بارے میں تھا۔ اس کا عنوان تھا: صحیح اسٹریٹجی ہی جتائے گی ۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ صرف کھیل کے میدان کی بات نہیں ہے۔ زندگی کے ہر معاملہ میں کامیابی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ صحیح تدبیر ہے۔ غلط تدبیر اس دنیا میں ہمیشہ ناکام ہوتی ہے اور صحیح تدبیر ہمیشہ کامیاب۔
مراد آباد سے شمسی برادری (پنجابی برادری) کا ایک ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام شمسی آواز
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues