الرسالہ مشن
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹
قوانین فطرت کے مطابق ممکن نہ تھا تو اس کو کبھی یہ ترقی حاصل نہ ہوتی۔
یہ قابل بقا پر وگرام کیا تھا جو امریکی قوم نے اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں اختیار کیا۔ یہ بنیادی طور پر دو نکات پر مشتمل تھا ــــ سائنٹفک ایجو کیشن اور مسابقت پر مبنی اقتصادیات۔ یہ دو نکاتی فارمولہ اپنے اندر بقا اور استمرار کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس لیے اس کے نتائج نسل در نسل جمع ہوتے رہے یہاں تک کہ امریکہ اپنے موجودہ دور عروج تک پہنچ گیا۔
انھیں دو سو سالوں میں مسلم ملکوں میں بھی قربانی کی حد تک جاکر ملّی احیاء کی کوششیں کی گئیں مگر وہ سب کی سب ناکام رہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ مسلم رہنماؤں نے بار بار ملت کو ایسے راستوں پر دوڑایا جو حقیقی اسباب کے اعتبار سے قابل بقا (sustainable) نہ تھا۔ چنانچہ کوششوں کا تسلسل بار بار ٹوٹتا رہا اور ان کا کوئی مجموعی نتیجہ ہمارے حصے میں نہ آسکا تاریخ کائنات امریکہ کے اس سفر میں جو سبق آموز چیزیں دیکھیں ان میں سے ایک واشنگٹن کا نیشنل ایر اینڈ اسپیس میوزیم تھا۔ یہ ایک عظیم سنٹر ہے جس میں ہر قسم کے ہوائی جہاز اور خلائی گاڑیوں وغیرہ کے اصل نمونے رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں چاند سے لائی جانے والی چٹان کا ٹکڑا بھی ہے جس کو ہم نے اپنے ہاتھ سے چھو کر دیکھا۔ اس قسم کے مختلف مناظر سے گزرتے ہوئے ہم لوگ اس کے وسیع پلینیٹریم میں پہنچے۔ یہاں بگ بینگ سے لے کر بعد کی کائنات تک کا منظر ایک بہت بڑی اسکرین پر دکھایا جاتا تھا۔ میں اور میرے ساتھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ مکمل اندھیرے کے بعد سامنے کے وسیع پر دے پر ایک روشنی ظاہر ہوئی۔ یہ بہت بڑے انڈے کی مانند ایک ’’سپرایٹم “ تھا۔ وہ وسیع خلا میں متحرک تھا۔ اس کے بعد وہ اچانک پھٹا اور پھر اس کے اندر سمٹے ہوئے روشن اجزاء اچانک وسیع خلا میں بکھر گئے۔ جیسے بے شمار پتنگ وسیع خلا میں اڑ رہے ہوں۔ یہ بگ بینگ کا واقعہ تھا جو ماہرین فلکیات کے مطابق، تقریباً ۲۰ بلین سال پہلے پیش آیا۔
اس کے بعد لا محدود خلا میں کہکشائیں اور ستارے اور سیارے بننا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ شمسی نظام وجود میں آیا جس کے ایک حصہ میں انسان مقیم ہے۔ پھر شمسی نظام کے ایک سیارہ (زمین) پر نہایت بامعنی تبدیلیاں شروع ہوئیں، بارشیں ہوئیں، پانی کے دھارے بہنے لگے۔ پھر نباتات اور
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues