Al-Risala · January 1998 · page 42

دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲

ہے۔ اس کے شمارہ مارچ 1996 میں ایک مضمون (سفر نامہ مراد آباد) تھا۔ مضمون نگار نے بتایا تھا کہ مراد آباد میں شمسی برادری کے بہت سے ادارے ہیں۔ مگر کسی میں بھی عہدوں کا جھگڑا نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات ہے کہ یہاں جو فلاحی یار فاہی ادارے ہیں، ان میں سے کسی میں بھی عہدوں کی لڑائی نہیں۔ یہاں ایک مثالی مسافر خانہ ہے۔ مگر مسافر خانے کے سو سال پورے ہونے تک صرف تین ناظم رہے۔ اسی طرح مدرسہ امدادیہ میں نصف صدی تک ایک ہی مہتمم رہے۔ مدیر شمسی آواز نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہاں کبھی عہدوں کی لڑائی نہیں ہوئی۔ چھوٹی برادریوں میں اکثر اس قسم کی صفات پائی جاتی ہیں۔ مگر وسیع تر امت میں یہ ماحول موجود نہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ برادریاں اپنی روایات پر چل رہی ہیں۔ ان کی روایات ٹوٹنے کی نوبت نہیں آتی۔ مگر امت میں نام نہاد لیڈروں نے جھوٹی آنچل کو دھچا کر تمام روایات توڑ ڈالیں۔ روایت شکنی ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ وہ عقل کے خلاف بھی ہے اور اسلام کے خلاف بھی۔ جیسا کہ معلوم ہے ۔ نام نہاد انقلابی تحریکیں سب کی سب ملت کی سطح پر اٹھیں، اس قسم کی کوئی بھی تحریک برادریوں کی سطح پر نہیں اٹھی۔ یہی وجہ ہے کہ ملت میں روایتیں ٹوٹ گئیں، جب کہ برادریوں کی روایتیں نہیں ٹوٹیں۔

ڈاکٹر ظہور الحسن شارب مراد آباد میں ۹جنوری ۱۹۱۴کو پیدا ہوئے۔ حال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ اپنی قسم کے انوکھے آدمی تھے ۔ 1947 سے پہلے وہ مراد آباد میں وکالت کرتے تھے۔ اپنے دفتر میں انھوں نے ایک ساتھ دو تصویریں لگا رکھی تھیں۔ ایک جواہر لال نہرو کی، اور دوسری محمد علی جناح کی۔

اس زمانہ میں دونوں لیڈروں میں زبردست اختلاف تھا۔ دونوں بالکل دو انتہا پر نظر آتے تھے۔ پھر انھوں نے اپنے دفتر کو بیک وقت دونوں کی تصویروں سے کیوں سجایا۔ ان کے بعض جاننے والوں کا خیال ہے کہ ان کا نظریہ غالباً یہ تھا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر با کمال ہیں۔ اور کمال کی صفت خواہ کسی میں بھی ہو وہ بہر حال قابل اعتراف ہوتی ہے۔

مراد آباد میں ایک صاحب ہیں جو حافظ قرآن ہیں اور ایک کالج کے پرنسپل بھی ہیں۔ وہ گرم مزاج ہیں، وہ اپنی گرم مزاجی کا سبب اللہ کے کلام کو سینے میں محفوظ رکھنا بتاتے ہیں۔ میری

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page