نیا چیلنج
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱
مسلمانوں کی پالیسی کیا ہے اور آپ کے خیال سے انھیں کیا کرنا چاہیے ۔ میں نے کہا کہ یہ الیکشن اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ سیاسی داداؤں کے دنگل کا ایک میدان ہے جس سے وہ اپنے ذاتی مقاصد کو حاصل کر سکیں ۔ اس کا ۲۰ کروڑ مسلمانوں کے مسائل کے حل سے کوئی براہ راست تعلق نہیں: These elections are nothing more than a wrestling ground for political dadas to grab the power only to secure their own material interests. It has nothing to do with the problems facing the 200 million people called the Muslim community of India. میں نے کہا کہ موجودہ الیکشن ہندوستانی پارلیمنٹ کا بارہواں الیکشن ہے۔ مگر مسلمان اب تک اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ ابھی تک انھوں نے اس سلسلہ میں کوئی پازیٹیو پالیسی نہیں بنائی۔ الیکشن کے سلسلہ میں ان کی کوئی مثبت اور واضح پالیسی نہیں۔ اس کی وجہ الیکشن کے بارے میں ان کی بڑھی ہوئی توقع (over-expectation) ہے۔ موجودہ قسم کے الیکشن سے صرف وقتی اور محدود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ مگر ہندوستان کے مسلم رہنماؤں اور دانشوروں نے ان کا جو ذہن بنایا اس کی بنا پر وہ یہ سمجھنے لگے کہ جس پارٹی کو وہ ووٹ دیں اس کو چاہیے کہ وہ ان کے سارے ملی مسائل کو حل کردے۔ چونکہ ایسا ہونا ممکن نہیں اس لیے ہر بار ان کے ووٹ نیگیٹو ووٹنگ کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اس بار مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ عام طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ سیکولر امیدواروں کو ووٹ دو ۔ مگر موجودہ دنیا میں کوئی لیڈر مسٹر سیکولر یا مسٹر آدرش نہیں ، ہر لیڈر مسٹر انٹرسٹ ہے۔ آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ کسی کے انٹرسٹ میں شریک ہو کر اس سے اپنے انٹرسٹ کی تکمیل میں مدد لیں۔
نیا چیلنج
ایک امریکی پرو فیسر سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے گفتگو کے بعد اندازہ ہوا کہ اہل علم کی سطح پر نئے امریکی ذہن کی سوچ کیا ہے۔ یہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ سوویت یونین کے سقوط کے بعد امریکہ کو صرف ایک محدود مدت کے لیے خالی میدان ملا تھا ۔ اب امریکہ کے خلاف دوبارہ عالمی سطح پر ایک نیا چیلنج ابھرا ہے ۔ اگر چہ یہ سابق سوویت یونین کی طرح کسی ایک متحد طاقت کی طرف سے نہیں ہے بلکہ مختلف طاقتوں کے بظاہر غیر متحد ظہور کے نتیجہ میں پیش آیا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues