ایک ملاقات
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳
حقیقی معنوں میں خوشی اور سکون کی زندگی گزار رہا ہو۔
" مادی ترقی اپنی انتہا پر پہنچ کر اپنی نفی بن جاتی ہے۔ "
ایک ملاقات
جناب عرفان عمر صاحب امریکہ کی ایک یونی ورسٹی میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ ان کی ریسرچ کا موضوع ہے: برصغیر ہند کے مسلم مفکرین۔ اس فہرست میں انھوں نے راقم الحروف کا نام بھی شامل کیا ہے۔ ان سے چند ملاقاتیں ہوئیں۔
موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں برصغیر ہند میں جو مسلم مفکرین اٹھے وہ میرے نزدیک سب کے سب وقتی حالات کی پیداوار تھے۔ حقیقت کے ابدی تناظر میں ان کا فکر نہیں بنا۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مسلمانوں کو وہ مثبت رہنمائی نہ دے سکا جو موجودہ زمانہ میں انھیں درکار تھی۔ مثلاً سر سید احمد خاں ، غدر ۱۸۵۷ء کے حالات کے زیر اثر ابھرے۔ ترک کی عثمانی خلافت کے خاتمہ نے محمد علی کو پیدا کیا۔ ابو الکلام آزاد ہندوستان میں قائم ہونے والے برٹش راج کی پیداوار تھے۔ محمد علی جناح کا ظہور ہند و فرقہ واریت کا نتیجہ تھا۔ ابو الاعلیٰ مودودی کا فکر مغربی تہذیب کے غلبہ کے ردعمل میں بنا، وغیرہ۔
میرا معاملہ ان سب لوگوں سے بالکل مختلف تھا۔ ان حضرات کی فکری نشوونما جن حالات میں ہوئی ان کا ہنگامہ اس وقت صرف شہروں میں ہوا کرتا تھا۔ ان سب لوگوں کی شخصیتیں انھیں شہری حالات کے تحت بنیں۔ مگر میرے ساتھ یہ اتفاق پیش آیا کہ میں یوپی کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہوا۔ تقریباً ۲۵ سال کی عمر تک میری زندگی اسی گاؤں یا اس کے آس پاس کے سادہ ماحول سے وابستہ رہی۔ حتی کہ میری تعلیم ایک ایسے مدرسہ میں ہوئی جو شہر سے بہت دور ایک ویرانے میں واقع تھا۔ میں اپنے گاؤں سے وہاں پیدل جاتا تھا تو یہ پورا راستہ ایسے مقامات سے گزرتا تھا جہاں کھیت اور باغ اور میدان جیسی چیزوں کے سوا کچھ اور میرے دیکھنے کے لیے نہ تھا۔
اس اعتبار سے میری زندگی انفرادی سطح پر بنو اسماعیل کی زندگی سے بہت ملتی جلتی ہے۔ بنو اسماعیل
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues