Al-Risala · August 1998 · page 35

جنت کا ٹکٹ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵

ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پیس ہے۔ میں نے کہا کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ آپ امریکہ میں پیس کی پرائس دے رہے ہیں اس لیے یہاں پیس ہے۔ اور اپنے ملک میں آپ یہ پرائس دینے کے لیے تیار نہیں اس لیے وہاں پیس بھی نہیں ۔

انھوں نے کہا کہ کیا پرائس۔ میں نے کہا کہ ایک لفظ میں یہ پرائس ایڈجسٹمنٹ ہے۔ ہر ملک میں کچھ مطلوب چیزیں ہوتی ہیں اور کچھ غیر مطلوب چیزیں۔ اگر آپ غیر مطلوب چیزوں کو نظر انداز کر کے مطلوب چیزوں پر قناعت کریں تو اسی کا نام امن ہے۔ اور اگر یہ چاہیں کہ سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق ہو، کوئی غیر مطلوب چیز باقی نہ رہے تو اسی کے نتیجہ کا نام بد امنی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ دو طرفہ صورت حال کسی مفروضہ ظالم کی قائم کردہ نہیں ہے بلکہ وہ خود فطرت کے قانون کی بنا پر ہے اس لیے وہ کبھی اور کسی سماج میں ختم ہونے والی نہیں۔ مسلم ملکوں میں جو لوگ نیا بہتر نظام قائم کرنے کے نام پر موجودہ حکمرانوں سے لڑ رہے ہیں، وہ اگر غالب ہوں اور موجودہ نظام کو ختم کر کے دوسرا نظام قائم کریں تو اس نئے نظام میں بھی عین یہی دو طرفہ صورت حال باقی رہے گی ۔ اس کی واضح مثال مصر، افغانستان، پاکستان اور ایران جیسے ملک ہیں۔

جنت کا ٹکٹ

امریکہ میں تقریباً ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں اسلامک سنٹر ہیں۔ یہاں اسلامک سنٹر کا مطلب ہوتا ہے مسجد اور اس کے ساتھ دوسرے ضروری شعبے مثلاً لائبریری، هال، مہمان خانہ، مدرسہ، وغیرہ۔ ایک اسلامک سنٹر میں میرے کچھ پروگرام ہوئے ۔ اس کے ذمہ دار کی طرف سے مجھے یہ پیش کش کی گئی کہ اب آپ یہیں رہئے ۔ انڈیا کے بجائے امریکہ کو اپنا میدانِ کار بنائیے۔ آئندہ آپ ہی اس اسلامک سنٹر کے چیرمین ہوں گے۔ تاہم ان کے شدید اصرار کے باوجود میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جو مسلمان امریکہ میں آباد ہیں اور یہاں دعوت کا کام کر رہے ہیں ان کے لیے یہی درست ہے کہ امریکہ کو اپنا میدان سمجھیں۔ مگر جہاں تک میرا تعلق ہے میں انڈیا میں کام کرنے کو زیادہ پسند کرتا ہوں ۔ میرا احساس یہ ہے کہ اگر میں صبر کے ساتھ انڈیا میں دعوتی کام کروں تو وہاں میرے لیے جنت کا یقینی ٹکٹ موجود ہے ۔

بیرونی دنیا میں عام طور پر انڈیا کا تصور یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کوستایاجاتاہے ۔ ٹرنٹن میں ایک

‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues

Printed page