Al-Risala · January 1998 · page 43

دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳

اپنی رائے ہے کہ اللہ کے کلام سے گرم مزاجی اور بد مزاجی نہیں آسکتی۔ اس کو تو رحمت و عافیت کا سبب بننا چاہيے۔ صحیح پوزیشن سے آگاہ کرنے کی زحمت کریں۔

میرے ایک دوست کو آپ سے یہ شکایت ہے کہ آپ آج کے مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی کی مثالیں دیتے ہیں۔ مگر آج کے انسان اور ان انسانوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ تو پھر کس طرح آج کا انسان وہ سب کیسے کر سکتا ہے۔ میری وضاحت اس بارے میں یہ تھی کہ بے شک آج کے انسان اور مسلمانوں کی ڈگری صحابہ کی ڈگری سے کم ہے۔ مگر اللہ کا پیغام جو حضور لے کر آئے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے قابلِ عمل ہے، اس لیے صحابہ کی مثال مناسب اور ضروری ہے۔ علمی وضاحت فرمائیے۔

مولوی حضرات اور مدرسہ سے وابستہ حضرات کھانے میں بہت زیادہ دل چسپی رکھتے ہیں، یہ بات عام طور سے کہی بھی جاتی ہے اور عموماً مشاہدہ میں بھی آتی ہے۔ کیا حضور کی زندگی میں کوئی ایسا بھی پہلو ہے جس میں خوب سے خوب تر کھانے اور بہت کھانے کی طرف اشارہ ہو۔ مذہب کے ساتھ ساتھ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ بھی آپ کا بہت وسیع ہے۔ ایک سچائی جاننا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی شاہ جہاں نے تاج محل بنانے والے کاریگروں کے ہاتھ کٹوا دیے تھے۔ یقین نہیں ہوتا کیوں کہ یہ لوگ مذہبی لوگ تھے۔

ہندوستان میں عام طریقہ سے businessmen دولیجر کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک نمبراتا ہے، دوسرا نمبر 2۔ مسلمان بھی اس کام میں پیچھے نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام اسلامی رو سے ٹھیک نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ہندوستانی Tax System اور مسلمانوں کی ذمہ داری کی وضاحت اسلامی نقطہ نظر سے کیجیے۔

میرے ایک ہندو دوست کا سوال ہے کہ اگر کسی مسلمان کا بیٹا اسلام پر یقین نہیں رکھتا ہے تو کیا اس کو گھر اور جائیداد سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ اُن کا ماننا ہے کہ کُفر مسلمان ایسا ہی کرتے ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اس کی گنجائش نہیں کہ کسی کو اس کے واجبی حق سے محروم کر دیا جائے۔ برائے مہربانی مسئلہ کو واضح کیجیے۔

گوشت کے ” حلال اور جھٹکا“ کی اسلامی وضاحت کیجیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page