Al-Risala · August 1998 · page 43

ہر چیز ایک سال میں

الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳

کا ذکر اس طرح کیا گویا کہ ہندوستان کے مسلمان اب ختم ہو چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ برعکس بات کہہ رہے ہیں۔ میرے نزدیک ہندوستان کے مسلمان ہر ملک سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں حتی کہ مسلم اکثریت والے ملکوں سے بھی زیادہ۔

میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان کی انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ بہت بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو دباؤ کی حالت میں پاتے ہیں۔ یہ صورت حال ترقی کے عمل میں بے حد معاون ہے۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ وہی لوگ ترقی کرتے ہیں جو دباؤ سے دوچار ہوں۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں یہ عمل جاری ہو چکا ہے۔ امریکہ کے مسلمان کچھ ڈالر تو کما سکتے ہیں مگر وہ کوئی بڑی ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ آپ لوگوں کو یہاں دباؤ والے حالات کا سامنا نہیں۔

ہندوستان کے مسلمانوں میں اب یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں نیوکلیئر سائنس جیسے اہم شعبہ کا ڈائریکٹر ایک مسلمان ہے۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کو بتاتا ہے۔

ہر چیز ایک سال میں

ایک مجلس میں یہ بات ہو رہی تھی کہ انڈیا اور پاکستان وغیرہ کے لوگ کیوں اپنے وطن سے بھاگ کر امریکہ آتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہاں ہر چیز فوراً مل جاتی ہے۔ امریکہ آئے ہوئے مجھ کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوئے اور آج یہ حالت ہے کہ میرے پاس فرنشڈ مکان ہے، بڑی گاڑی ہے، موبائل ٹیلی فون ہے وغیرہ، وغیرہ۔ اپنے وطن میں میرے لیے کبھی بھی ایک سال میں ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کو یہ چیزیں اس لیے نہیں ملتیں کہ آپ نے ایک سال کے اندر اتنا زیادہ پیسہ کمالیا کہ آپ اس قسم کی پر تعیش زندگی کی قیمت ادا کر سکیں۔ آپ جیسے لوگ یہاں آکر یہ کرتے ہیں کہ بینک سے سودی قرض لے کر فوراً ہر چیز حاصل کر لیتے ہیں اور اس کے بعد ساری زندگی سود سمیت اس کی قسطیں ادا کرتے رہتے ہیں۔ اس لائف پیٹرن کی وجہ سے آپ لوگوں کو دن رات کمانا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ ہر آدمی حیوان کا سب بن جاتا ہے۔

میں نے یہاں کے بہت سے لوگوں سے باتیں کیں۔ میں نے محسوس کیا کہ مادی اعتبار سے ہر آدمی بظاہر اعلی زندگی حاصل کیے ہوئے ہے۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق، لوگوں کے اندر اعلیٰ سوچ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues

Printed page