Al-Risala · August 1998 · page 45

غلط نہی

الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵

غلط نہی

مسٹر نور محمد لودیا نیو یارک میں رہتے ہیں۔ وہ ایک تاجر ہیں۔ وہ عرصہ سے الرسالہ مطبوعات کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے متعلق معلوم ہوا کہ آج کل ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے میں ان کی عیادت کے لیے ان کی رہائش گاہ پر گیا۔ معلوم ہوا کہ موجودہ علاج سے ان کو کافی فائدہ ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی ان کی صحت معمول پر آجائے گی۔ ان سے ملاقات کے وقت جناب حبیب محمد صاحب اور جناب فاروق چشتی صاحب بھی موجود تھے۔

گفتگو کے دوران جناب نور محمد لودیا صاحب نے کہا کہ میں برابر الرسالہ پڑھتا ہوں۔ آپ کی کتابوں کا بھی مطالعہ کر چکا ہوں۔ مجھے آپ کے نقطۂ نظر سے پورا اتفاق ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں مگر اس مخالفت کا سبب صرف غلط فہمی ہے۔ لوگ ہمیشہ باتوں کو حال کے خانہ میں دیکھتے ہیں، جب کہ آپ مستقبل کو سامنے رکھ کر بول رہے ہیں۔ یہ ایک انٹلکچول گیپ (intellectual gap) کا معاملہ ہے۔ بیسویں صدی میں خواہ آپ کی باتیں لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں مگر اکیسویں صدی کے لوگ آپ کی باتوں کو خوب سمجھیں گے۔ اس وقت لوگوں پر کھل جائے گا کہ آپ کی رہنمائی کتنی زیادہ درست تھی۔

مسٹر نور محمد لودیا خاموشی کے ساتھ ایک بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے الرسالہ مشن کی بعض بنیادی کتابوں کو بڑی تعداد میں چھپوا کر مختلف ملکوں میں مفت تقسیم کرایاہے مزید یہ کہ یہ تقسیم کرانا اس طرح نہیں ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد کے دروازہ پر کھڑا ہو گیا اور ہر آنے جانے والے کے ہاتھ میں ایک کتاب دے دی۔ اس کے بجائے تقسیم کا یہ کام انھوں نے ایک منظم انداز کے تحت انجام دیا ہے۔ انھوں نے مختلف ملکوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی فہرست تیار کرائی۔ اداروں اور لائبریریوں کے پتے حاصل کیے اور پھر دستی طور پر یا ڈاک کے ذریعہ انھیں پہنچانے کا انتظام کیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ تھوڑی مدت میں بہت وسیع پیمانہ پر اہل فکر حضرات تک الرسالہ کا پیغام پہنچ گیا۔ غیر قوم ایک باریش مذہبی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے اور اب یہاں آکر رہ رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ پہلے بھی میں غیر قوم کے درمیان رہ رہا تھا۔ اور اب یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues

Printed page