غلط نہی
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷
وہ لوگ بھی کیسے عجیب ہیں جو جھوٹی خبر کو پھیلائیں اور سچی خبر کو چھپائے رکھیں ۔ اس معاملہ میں سچی خبر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے میرے ذریعہ سے ہندوستان میں ایک آگ کو بجھا دیا۔ میرے مشن کو اللہ تعالیٰ نے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے رحمت بنا دیا۔
پچاس سال سے بھی زیادہ مدت سے ہندوستان کے تمام مسلم رہنما یہ کہتے آ رہے تھے کہ اس ملک کا نمبر ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں تناؤ کو ختم کیا جائے اور دونوں فرقوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم کیے جائیں ۔ یہ تمام رہنما اس معاملہ کا حل یہ بتا رہے تھے کہ سیکولر ہندوؤں سے تعلقات بڑھائیں اورسیکولر طاقتوں کو مضبوط کر کے مسلم مخالف فرقہ واریت کا مقابلہ کریں۔ یہ تدبیر بہت بڑے پیمانہ پر عمل میں لائی گئی مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہی۔
اللہ کی توفیق سے مجھ پر یہ بات کھلی کہ ہمارے رہنما " نو پرابلم ہندو" سے تعلق بڑھانے کو مسئلہ کا حل سمجھے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ حقیقی حل یہ ہے کہ پرابلم ہندو سے تعلق بڑھایا جائے اور ان کے مخالفانہ جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔
اس مقصد کی خاطر میں نے پرابلم ہندوؤں سے تعلقات بڑھانے کے لیے بہت بڑے پیمانہ پر ان کے درمیان جانا ، اور ان کے اخباروں میں کثرت سے مضامین شائع کرنا شروع کیا۔ ان کے جلسوں کو مسلسل طور پر خطاب کیا۔ ان کے پروگراموں میں شرکت کی ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ، ۱۹۴۷ کے بعد پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ پرابلم ہندو بھی نو پرابلم ہندو کی طرح ہو گئے ۔ اس کے لیے مجھے جو قربانی دینی پڑی اس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔
گویا کہ مسئلہ تو پرابلم ہندوؤں نے پیدا کیا تھا ۔ مگر مسلم رہنما اس کو نو پرابلم ہندوؤں کی سطح پر حل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ۔ ایسا طریقہ اسباب کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا ، اس لیے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا ۔
اللہ تعالی کی توفیق سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے میں نے جو کوشش کی اس کے انقلابی نتائج برآمد ہوئے ۔ مسجد توڑو مندر بناؤ تحریک اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہوگئی۔ اس تحریک پر ہمیشہ کے لیے اجودھیا میں فل اسٹاپ لگ گیا ، جب کہ تمام لوگ اس کو کا سمجھے ہوئے تھے ۔ ہندوستان سے فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا ۔ یکساں سول کوڈ کی تحریک کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues