آغاز کی تکمیل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸
زور ٹوٹ گیا۔ کشمیر کی متشددانہ تحریک ٹھنڈی پڑگئی، جو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بالواسطہ طور پر سنگین مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ بڑے بڑے اینٹی مسلم لیڈروں نے کھلے طور پر اعلان کیا کہ ہم مسلم دشمن نہیں ہیں، وغیرہ۔ اس طرح ہندوستان میں جو پرامن ماحول قائم ہوا اس کا مثبت نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان عمومی پیمانہ پر تعلیم کے میدان میں سرگرم ہو گئے ۔ وہ بڑی بڑی تجارتیں کرنے لگے۔ زندگی کی تعمیر کے میدان میں وسیع پیمانہ پر ان کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ ترقیاتی کاموں کے دروازے ان پر کھل گئے۔ یہ سب فرقہ وارانہ تناؤ کے خاتمہ کا نتیجہ تھا۔
۱۹۴۷ء کے بعد جتنے لکھنے اور بولنے والے مسلمان اٹھے سب کے سب صرف شکایت اور مطالبہ کی تحریک چلاتے تھے۔ اس زمانہ میں مسلم سیاست کا مطلب صرف احتجاجی سیاست تھا۔ فطرت کے قانون کے مطابق یہ ساری کوششیں بالکل بے نتیجہ ہوگئیں۔ الرسالہ مشن نے پہلی بار یہ کیا کہ مسلمانوں کو خود تعمیری کا سبق دیا۔ یہ بتایا کہ ہندوستان میں بھی ان کے لیے وہ تمام امکانات موجود ہیں جو دوسرے ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان ان کے لیے مسائل کا ملک نہیں بلکہ مواقع کا ملک ہے۔ اس طرح الرسالہ مشن نے پہلی بار مسلمانوں کو بے اعتمادی کی فضا سے نکال کر اعتماد کی فضا میں داخل کیا۔ ان کو پہلی بار اس ملک میں خود اعتمادی کی دولت حاصل ہوئی، اور بلا شبہ خود اعتمادی تمام اچھی چیزوں میں سب سے اچھی چیز ہے۔
آغاز کی تکمیل
امریکہ کے زمانہ قیام میں کچھ ایسے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو مغربی تہذیب کو تاریخ کی سب سے بڑی برائی بتاتے تھے اور اس کے خلاف بے تکان تقریر کرتے تھے۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما عام طور پر یہی کہتے ہیں۔ وہ مغربی تہذیب کو ایک باطل تہذیب یا مسلم دشمن تہذیب کے روپ میں دیکھتے ہیں مگر یہ صرف سطحی مطالعہ کا نتیجہ ہے۔
یہ صحیح ہے کہ مغربی تہذیب میں کچھ واضح برائیاں ہیں۔ مثلاً شراب، مگر اس قسم کی بعض خرابی ہر تہذیب میں پائی جاتی ہے۔ کسی تہذیب کی قدر و قیمت متعین کرنے کے لیے اس کو مجموعی اعتبار سے دیکھنا چاہیے نہ کہ محدود اعتبار سے۔
میں نے اس معاملہ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ میرے نزدیک جدید مغربی تہذیب خود اسلامی تہذیب
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues