Al-Risala · January 1998 · page 44

دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴

کوئی حکمت اور نصیحت کی بات بتائیے کہ کس طرح ان لوگوں سے تال میل بنا کر رکھا جائے جن کا intellectual level واقعی کم ہے اور دفتر میں وہ باس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بینک میں میں بہت محنت اور لگن سے کام کرتا ہوں۔ مگر اندر سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجھے بینک میں دل چسپی نہیں ہے۔ کوئی ایسا کام جس سے علم کا حصول اور علم کا فروغ وابستہ ہو کرنے کا من کرتا ہے۔ اس تعلق سے حکمت و نصیحت کی بات بتائیے۔

اپریل ۱۹۹۶ء کے الرسالہ میں ایک مضمون میں آپ نے کچھ مسائل کو انتظار کے خانہ میں ڈالنے“ کا مشورہ دیا ہے۔ یہ یقیناً ایک زبردست حکمت ہے۔ میری کلکتہ کی ٹریننگ شاید اسی حکمت پر عمل کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔

راز حیات ایک نایاب کتاب ہے۔ وہ واقعی تحفہ کے لائق ہے۔ مگر اردو میں ہونے کی وجہ سے اس کا دائرہ بہت مختصر ہے۔ جلد از جلد ہندی اور انگریزی میں ترجمہ کرانے کی زحمت کیجئے! ۔ دہلی کی ایک سڑک کے کنارے ایک بہت بڑے حیوان کا ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے۔ یہ ڈائناسار (dinosaur) ہے۔ زمینی طبقات میں ایسی ہڈیاں یا ڈھانچے پائے گئے ہیں جن سے ماہرین نے یہ سمجھا ہے کہ تقریباً ۶۰ ملین سال پہلے زمین پر ہاتھی سے بھی زیادہ بڑے جانور چلتے پھرتے تھے۔ ان کی لمبائی تقریباً سوفٹ تک ہوتی تھی۔ دنیا کے تمام عجائب خانوں میں اس کے نمونے برائے نمائش رکھے گئے ہیں۔

مراد آباد کا ہفت روزہ اخبار خبر دار جدید (۲۱ تا ۲۸ جون ۱۹۹۶) میں شائع شدہ ایک رپورٹ نظر سے گزری۔ جس کا عنوان یہ تھا، مراد آباد میں مسلم تعلیمی اداروں کا زوال۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مراد آباد میں چند تعلیمی ادارے ہیں مگر وہ بھی اچھی حالت میں نہیں ہیں۔ ہیوٹ مسلم انٹر کالج لڑکوں کے لیے اور عبد السلام مسلم گرلز کالج لڑکیوں کے لیے، ۱۹۱۴ء سے پہلے قائم ہوئے ۔ ان اداروں کے بانیوں نے انہیں جہاں چھوڑا تھا آج بھی وہ وہیں ہیں۔ آج تک یہ اس لیے قائم ہیں کہ صوبائی حکومت انھیں پوری پوری رقمی گرانٹ دیتی ہے۔ ان کالجوں میں ڈگری کلاسز کا بھی اضافہ نہ کیا جا سکا۔ چنانچہ طلباء کو مزید تعلیم کے لیے دوسرے اداروں میں جانا پڑتا ہے۔ عبد السلام مسلم گرلز انٹر کالج میں کامرس اور سائنس کے مضامین کی تعلیم کا انتظام نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page