دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵
یہ صرف مراد آباد کی بات نہیں بلکہ تقریباً ہر جگہ یہی حال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کچھ اسکول کالج تو کھلے اور کئی یونی ورسٹیاں بھی بنائی گئیں مگر تعلیمی شعور پیدا کرنے کی کوئی مہم جاری نہ کی گئی۔ تعلیمی اداروں کا قیام جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ لوگوں کے اندر تعلیم کی اہمیت کا شعور پیدا کیا جائے۔ قریبی سالوں میں مسلم نوجوان نسبتاً زیادہ بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں میں داخلے لے رہے ہیں مگر وہ بھی کسی تعلیمی شعور کے تحت نہیں ہے بلکہ معاشی دباؤ کے تحت ہے۔ اس لیے اس سے بھی زیادہ فائدہ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
۱۱ مارچ کو دہلی واپس آتے ہوئے بیشتر راستہ طے ہو چکا تھا کہ اچانک زور کی آواز کے ساتھ گاڑی کھڑی ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ اس کا ایک ٹائر پھٹ گیا۔ بظاہر اب گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ لیکن ڈرائیور اطمینان کے ساتھ اترا۔ اس کو معلوم تھا کہ گاڑی کے پچھلے حصہ میں ایک اسٹپنی (stepney) موجود ہے۔ چنانچہ اس نے فوراً گاڑی کا ایک پہیہ نکالا اور اس کی جگہ دوسرا پہیہ (اسٹپنی) لگادی۔ اب گاڑی دوبارہ اپنی رفتار کے ساتھ آگے کے لیے روانہ ہوگئی۔
میں نے سوچا کہ یہ صرف ایک گاڑی کا معاملہ نہیں ہے، یہی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ زندگی کی دوڑ میں کسی بھی مرحلہ میں ایسا ہو سکتا ہے کہ سابقہ انتظام میں کوئی نقص پیدا ہو جائے اور اچانک زندگی کا سفر رک جائے۔ اس امکانی خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایک متبادل انتظام ہر وقت موجود ہو۔ اسی بات کو حالی نے اس طرح نظم کیا ہے : سفینہ بنا رکھیں طوفان سے پہلے ۱۱ مارچ ۱۹۹۶ء کو گیارہ بجے میں دہلی واپس آگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues