Al-Risala · September 1998 · page 10

اعلیٰ کردار

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۰

اعلیٰ کردار

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ تم اس سے جڑو جو تم سے کٹے اور تم اس کو دو جو تم کو محروم کرے۔ اور تم اس کو معاف کردو جو تم پر ظلم کرے تَصِلُ من قطعك وتعطی من حرمك وتعفو عمن ظلمك)۔

اس حدیث میں کردار کا وہ طریقہ بتایا گیا ہے جو کسی انسان کو اعلیٰ انسان بناتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی رد عمل کی نفسیات سے پاک ہو۔ اس کا اخلاق جوابی اخلاق نہ ہو بلکہ وہ اعلیٰ انسانی اصولوں کے تحت متعین ہوا ہو۔ وہ ہر ایک سے یکساں طور پر حسن اخلاق کا رویہ اختیار کرے، خواہ اس سے اچھا تجربہ ہوا ہو یا برا تجربہ۔

سماجی زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو آپ سے شکایت ہوتی ہے اور وہ آپ سے قطع تعلق کر لیتا ہے یا سلام و کلام بند کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو بھی وہی نہیں کرنا ہے جو اس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے برعکس آپ کو یک طرفہ طور پر اس سے ملنا ہے۔ آپ کو یک طرفہ طور پر اس سے سلام و کلام جاری رکھنا ہے۔ یہ سب کچھ محض ظاہری طور پر نہیں بلکہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ ہونا چاہئے۔

اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص آپ سے غصہ ہو جاتا ہے اور جو کچھ وہ آپ کو دے رہا تھا اس کو دینا بند کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو یہ نہیں کرنا چاہئے کہ آپ بھی اس کو جو کچھ دے سکتے ہیں وہ اسے نہ دیں۔ اس کے برعکس آپ کو اپنے عطیات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ آپ جو کچھ اسے دے سکتے ہیں، وہ ضرور اسے دیں۔ اور دینے کے بعد کسی واپسی کی امید نہ رکھیں۔ اسی طرح اجتماعی زندگی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص آپ کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جو آپ کی نظر میں ظلم ہوتا ہے۔ اس وقت آپ کے دل میں غصہ بھڑک اٹھتا ہے۔ مگر اعلیٰ انسانیت یہ ہے کہ آپ غصہ کو ختم کر دیں۔ ظلم کرنے والے کو معاف کرکے دوبارہ اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو معتدل بنا لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page