Al-Risala · September 1998 · page 16

تالیف قلب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶

وگوبایشاں سخن موثر در دل ایشاں ۔ یعنی ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دل پر اثر کرنے والی ہو، جو ان کے اندر تک اتر جائے۔

قرآن کی یہ آیت منافقین کے ذیل میں آئی ہے جو کہ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ اس اعتبار سے اس حکم کا مطلب یہ ہوا کہ فریق ثانی خواہ تمہارے خلاف اشتعال انگیز کارروائیوں میں مشغول ہو، تب بھی تم اعتدال کا رویہ نہ چھوڑو۔ تم ان کے رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر حال میں ان کے خیر خواہ بنے رہو۔ تم جب بھی ان سے خطاب کرو تو ایسے بہترین اسلوب میں خطاب کرو جو ان کو اپیل کرنے والا ہو، جو ان کو تمہارے قریب لائے، نہ کہ اور زیادہ تم سے دور کر دے۔ ۴- تالیف قلب کی ایک رہنما مثال وہ ہے جو ہجرت کے بعد یہود کے معاملہ میں اختیار کی گئی۔ دین اسلام میں کعبہ کو عبادت کا قبلہ مقرر کیا گیا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں آپ نے بیت المقدس کو اپنا قبلہ عبادت بنا لیا جو کہ یہود کا قبلہ تھا۔ ۱۶ یا ۱۷ ماہ تک آپ اور تمام مسلمان اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے یہاں تک کہ نیا حکم آیا اور آپ نے دوبارہ کعبہ کو اپنا مستقل قبلہ بنا لیا (فتح الباری ۲۱/۸)

پیغمبر اسلام نے کیوں ایسا کیا کہ وہ تقریبا ڈیڑھ سال تک یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے رہے اس کا سبب تالیف قلب تھا۔ آپ نے ایسا اس لیے کیا کہ یہود آپ سے اجنبیت کے بجائے قربت محسوس کریں اور اس طرح اسلام کے دائرہ میں آنا ان کے لیے آسان ہو جائے (فاختار القدس طمعًا في ايمان اليهود و استعمالتهم) تفسیر القرطبی ۱۵۰/۲ ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تالیف قلب یا دل جوئی کا مطلب کیا ہے۔ یہ دعوتی اسلوب کا لازمی تقاضا ہے۔ داعی کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ ناصحانہ اور حکیمانہ انداز میں اپنے مدعو تک اس بات کو پہنچائے جس کو وہ کامل حق سمجھتا ہے۔ یہ پہنچانا سادہ طور پر صرف اعلان کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ اخلاص اور خیر خواہی کے انداز میں ہوتا ہے۔ دعوت کا یہ پہلو داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ تالیف قلب کی تمام شرطوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو ادا کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page