Al-Risala · January 1998 · page 46

دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶

خبر نامہ اسلامی مرکز

ہندی روزنامہ جے وی جی ٹائمز کے ڈپٹی چیف رپورٹر، مسٹر کابر آئل اور ان کے ساتھیوں نے، ۲ فروری، ۱۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ پچھلے پچاس سال میں انڈیا نے کیا حاصل کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ آزادی کے بعد مطلوب ہندوستان نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صحیح نقطۂ آغاز سے کام شروع نہیں کیا گیا، صحیح نقطہ آغاز تعلیم تھا۔ محکمہ ہمارے لیڈروں نے اسٹیٹ اکانومی (سوشلزم) سے آغاز کیا جس کو بجاطور پر راج گوپال اچاری نے لائسنس پرمٹ راج کہا تھا۔

ہندی میگزین نیائے چکر کے ایڈیٹر پرمود شری واستو نے ۲۱فروری ۱۹۹۷کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے تعلیم میں پیچھے ہونے کا تعلق ان کے مذہب سے نہیں ہے۔ چونکہ دیش پچھڑا ہوا ہے اس لئے مسلمان بھی پچھڑے ہوئے ہیں۔

۱۳ فروری، ۱۹۹ کو آرگنائزرفورم کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی میں ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ شری آنند شنکر پانڈے کی کتاب (مسلمان پچھڑے کیوں ہیں) کے اجراء کے لئے کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی تفصیلی تقریر میں بتایا کہ مسلمان پچھڑے ہوئے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ترقی کر رہے ہیں۔ تقریر میں واقعات و حقائق کی روشنی میں یہ بھی بتایا گیا کہ مسلمان ملک کی مین اسٹریم میں شامل نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بھی اسی طرح مین اسٹریم میں شامل ہیں جس طرح ہندوشامل ہیں۔

آریہ سماج کے دفتر (جنتر منتر روڈ، نئی دہلی) میں۲۷فروری ۱۹۹۷ کو ایک میٹنگ ہوئی۔ یہ میٹنگ چندر شیکھر آزاد (پیدائش ۱۹۰۶) کی یاد میں ہوئی۔ صدر اسلامی مرکز

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page