Al-Risala · September 1998 · page 17

تالیف قلب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷

تالیفِ قلب کی کوئی ایک یا چند متعین صورت نہیں۔ داعی کا مزاج اور زمانہ کے حالات کے لحاظ سے اس کی مختلف اور متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں۔ داعی کے اندر اپنے مدعو کے لیے خیر خواہی کا جذبہ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ہر طرح مدعو کی رعایت کرے گا، وہ ہر موقع پر خود ہی یہ جان لے گا کہ اسے اپنے مدعو کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا اور کس طرح کرنا چاہیے۔

دعوت در اصل مدعو کے حق میں محبت اور خیر خواہی کا اظہار ہے۔ سچا داعی وہ ہے جو اپنے جذبات سے زیادہ مدعو کے جذبات کا لحاظ کرے۔ جو اپنی مصلحتوں پر مدعو کی مصلحت کو مقدم بنائے۔ جو اپنے وقار کو نظر انداز کر کے مدعو کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرے۔ اس یک طرفہ کردار کے بغیر دعوتی کام کی انجام دہی ممکن نہیں۔

ایک شخص کیچڑ میں پھنسا ہوا ہو اور آپ اس کو اس سے نکالنا چاہیں تو یقینی طور پر آپ کے دامن پر بھی کیچڑ کے کچھ نہ کچھ چھینٹے آ جائیں گے۔ یہی معاملہ داعی اور مدعو کا بھی ہے۔ داعی جب مخلصانہ طور پر مدعو کو اس کی برائیوں سے بچانا چاہے اور تالیف قلب کی حد تک اس کی اصلاح کا حریص ہوجائے تو اس کے ساتھ بھی لازماً اس طرح کے معاملات پیش آئیں گے۔ مدعو کو بچانے کی کوشش میں جب وہ اس کے قریب جائے گا تو بظاہر اس کا دامن بھی کہیں نہ کہیں ملوث ہوتا ہوا دکھائی دے گا مگر داعی کے لیے یہ سب کچھ عین ثواب ہے۔ اس قسم کی چیزیں داعی کے مقام کو خدا کی نظر میں بڑھانے والی ہیں نہ کہ کسی بھی درجہ میں اس کے مقام کو گھٹانے والی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page