Al-Risala · September 1998 · page 18

حدیبیہ پرنسپل

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸

حدیبیہ پرنسپل

۷ستمبر ۱۹۹۲ کو مسٹر آصف جیلانی (مقیم لندن) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو آپ اکثر حدیبیہ کے اصول پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حدیبیہ کا معاہدہ پیغمبر اسلام نے تو وحی کی بنیاد پر کیا تھا، آج کے مسلمان کس طرح اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ حدیبیہ ہی نہیں بلکہ آپ کا یہ قول وعمل وحی کی بنیاد پر ہوتا تھا، جیسا کہ قرآن میں ہے : وما ينطق عن الھوی إن هو إلا وحي يوحى (النجم ۳-۴)، پھر کیا آپ رسول اللہ کی ہر بات کو اسی عذر کی بنیاد پر چھوڑ دیں گے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو ہر بات بذریعہ وحی بتائی۔ پھر آپ نے اس پر عمل کیا۔ اس طرح آپ کا قول و فعل ہمارے لئے نمونہ بن گیا۔

حدیبیہ ایک سنت رسول ہے۔ یہ کس موقع کے لئے سنت ہے۔ اس کا اندازہ اس زمانہ کے حالات کے مطالعہ سے ہوتا ہے جب کہ حدیبیہ کا معاملہ کیا گیا۔ صورت حال یہ تھی کہ ہجرت کے بعد مخالفین اسلام نے جنگ چھیڑ دی۔ کئی جھڑپیں یا جنگیں ہوئیں مگر وہ فیصلہ کن نہ بن سکیں۔ جنگی مقابلوں کے باوجود مکہ فتح نہیں ہو رہا تھا۔ حالاں کہ مکہ کو فتح کرنا مقصد رسالت میں شامل تھا تا کہ اس کو شرک اور بت پرستی سے پاک کیا جائے۔ اس وقت اللہ تعالی کی رہنمائی میں آپ نے حدیبیہ کا معاملہ فرمایا۔ اور اس کے نتیجے میں شاندار طور پر مکہ فتح ہوا۔

موجودہ زمانہ میں ہر جگہ مسلمانوں کی یہی حالت ہے۔ پچھلے ۲۰۰ سال سے وہ اپنے حریفوں سے مسلح ٹکراؤ کر رہے ہیں۔ مگر ہر ٹکراؤ مسلمانوں کے نقصان میں اضافہ کے سوا کوئی اور نتیجہ برآمد نہ کر سکا۔ اب مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ٹکراؤ اور تصادم کے بے فائدہ تجربہ کو مزید نہ دہرائیں۔ وہ صلح حدیبیہ کے اصول کو مکمل طور پر اختیار کر لیں۔ اب تک انھوں نے جنگ کی قوت کو نا کام طور پر استعمال کیا۔ اب ان کو چاہئے کہ وہ امن کی قوت کو استعمال کریں۔ امن کی قوت کو استعمال کرنے ہی کا دوسرا نام حدیبیہ پرنسپل ہے۔ جس دن مسلمان سنت رسول کی روشنی میں ایسا فیصلہ کریں گے ۔ اسی دن ان کی تاریخ بھی بدلنا شروع ہو جائے گی ٹھیک اسی طرح جیسے دور اول کے مسلمانوں کی تاریخ اسی اصول کے استعمال سے بدل گئی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page