Al-Risala · September 1998 · page 19

مال کی پاکی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹

مال کی پاکی

قرآن میں خدا پرست انسان کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ ـــ جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ وہ پاکی حاصل کرے۔ ۔ اور اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ اسے دینا ہو۔ مگر صرف اپنے خدائے برتر کی خوشنودی کے لیے۔ اور عنقریب وہ خوش ہو جائے گا۔

اسلام میں اس بات کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ آدمی اپنی کمائی کو صرف اپنے لیے خاص نہ کرے بلکہ اس میں سے دوسروں کو بھی دے۔ اپنے کمائے ہوئے مال کو صرف اپنے اوپر خرچ کرنا اور اس میں سے خدا کا اور انسان کا حصہ نہ نکالنا اسلام میں سخت گناہ ہے۔ کوئی شخص اگر اپنا مال دوسرے کو اس لیے دے کہ اس نے اس کے اوپر احسان کیا تھا تو یہ دینا اگرچہ کوئی برائی نہیں مگر صرف اس قسم کے عطیہ سے اسلامی تعلیم کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ احسان اتارنے کے لیے یا کسی اور جوابی فائدہ کے لیے دینے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جس کے لیے اسلام میں اپنا مال دوسروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کوئی آدمی جب اپنے مال کا ایک حصہ دوسرے کو دیتا ہے یہ اس کی طرف سے ایک قسم کی قربانی ہوتی ہے۔ یہ اپنی ایک محبوب چیز میں دوسرے کو حصہ دار بناتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ ضرورت مند ہے اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ مال والے لوگ اپنے مال کو دوسرے ضرورت مندوں کی مدد پر خرچ کریں۔ قرآن کے مطابق، کوئی آدمی نیکی کا درجہ نہیں پا سکتا جب تک وہ اپنے محبوب اثاثہ میں سے دوسروں کو نہ دے (آل عمران ۔ (۹۲) یہ گویا محبت کی قربانی ہے۔ اور محبت کی قربانی ہی وہ سب سے بڑی قربانی ہے جو آدمی کی داخلی تطہیر کرتی ہے اور اس کو روحانی ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ جسم کی پاکی پانی سے ہوتی ہے، اور روح کی پاکی قربانی سے۔ آپ کے جسم پر کیچڑ لگ جائے تو آپ اس کو پانی کے ذریعہ پاک کر سکتے ہیں۔ لیکن آدمی کی اندرونی ہستی میں جو برائیاں پیدا ہوتی ہیں ان کو محبوب چیزوں کی قربانی ہی کے ذریعہ پاک کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page