Al-Risala · September 1998 · page 20

فرق کے ساتھ برابری

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۰

فرق کے ساتھ برابری

کچھ تعلیم یافتہ اصحاب اکٹھے تھے گفتگو کا موضوع تھا: ہندوستانی مسلمان۔ میں نے کہا کہ اس ملک میں ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ یہاں کے مسلمان یک طرفہ طور پر ہندوؤں کے ساتھ ایڈجسٹ کریں۔ جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے، وہ نقصان اٹھاتے رہیں گے، وہ کبھی اس ملک میں ترقی نہیں کر سکتے اور نہ امن و عافیت کے ساتھ رہ سکتے۔ ایک مسلمان نے کہا کہ ہندوستان کا کانسٹی ٹیوشن تو یہاں کے تمام باشندوں کو بلا لحاظ فرقہ اور مذہب، برابر (equal) کا درجہ دیتا ہے۔ پھر آپ ہم کو نا برابری کی تعلیم کیوں دے رہے ہیں۔ ہم کانسٹی ٹیوشن کو لیں یا آپ کی بات کو۔ میں نے کہا کہ میں نابرا بری کی تعلیم نہیں دے رہا ہوں بلکہ حقیقت کی تعلیم دے رہا ہوں۔ آپ کے سوال کے جواب میں میں وہی کہوں گا جو ایک یہودی دانشور نے امریکہ کے یہودیوں سے اسی قسم کے سوال کے جواب میں کہا تھا۔ اس نے کہا یہ صحیح ہے کہ امریکی دستور کے اعتبار سے امریکہ کے یہودی اور امریکہ کے مسیحی دونوں برابر ہیں۔ مگر ایک اقلیت میں ہے اور دوسرا اکثریت میں۔ اس لیے زندگی کے بندوبست میں عملاً ان کے درمیان فرق رہے گا۔ اس کے بعد اس نے ایک یہودی کے اسی قسم کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں، برابر مگر مختلف :

Yes, equal but different.

یہ کوئی تعصب اور امتیاز کی بات نہیں۔ یہ زندگی کا ایک یونیورسل اصول ہے۔ وہ ہر سماج میں رہتا ہے، حتی کہ خالص اسلامی سماج میں بھی۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں اعلان فرمایا کہ تمام انسان برابر ہیں۔ مگر اس کے ڈھائی ماہ بعد جب آپ کی وفات ہوئی تو خلافت کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ قریش خلیفہ ہوں گے اور انصار وزیر اور مشیر (نحن الامراء وأنتم الوزراء) برابری کے باوجود عملی بندوبست میں یہ فرق ہمیشہ رہے گا۔ عورت اور مرد انسانی رتبہ کے اعتبار سے برابر ہیں مگر انتظامی تقسیم میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ امام اور مقتدی رتبہ کے اعتبار سے یکساں ہیں مگر عملی اعتبار سے دونوں میں فرق ہے۔ سردار اور غیر سردار دونوں رتبہ کے اعتبار سے یکساں ہیں مگر عملی پہلو سے دونوں میں فرق ملحوظ رکھا گیا ہے۔ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page