Yes, equal but different.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱
یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ کوئی بھی شخص اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ اس دنیا میں جو لوگ پیدا کیے جاتے ہیں، ان میں ہمیشہ استعداد اور حالات کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ فرق ایک ایسی ابدی حقیقت ہے جو ہمیشہ سے اس دنیا میں ہے اور وہ آخر وقت تک یہاں باقی رہے گا ایسی حالت میں ہمارا کام فرق کو مٹانا نہیں ہے ، بلکہ فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے سماجی اور قانونی اعتبار سے سب کو یکساں درجہ دینا ہے۔ فرق کو مٹانا ممکن نہیں۔ البتہ اس کو سماجی امتیاز تک پہنچنے سے روک دینا ممکن ہے ، اور ہمیں یہی دوسرا کام کرنا چاہیے۔ جس سماج میں اس فطری حقیقت کو مانا جائے وہ سماج کامیاب ہوگا۔ اور جس سماج کے لوگ اس فطری حقیقت کو تسلیم نہ کریں وہ سماج تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گا۔ کیوں کہ فطرت کی قائم کی ہوئی حقیقتوں کو بدلنا کسی کے بس میں نہیں۔
اگر آپ کے راستہ میں ایک ابھری ہوئی چٹان ہو تو چٹان سے لڑکر اس کو زمین کے برابر کرنے کی کوشش نہ کیجئے۔ بلکہ اس سے کتراتے ہوئے اس کے دائیں بائیں کی طرف سے اپنا راستہ نکال لیجئے ۔
اس اصول کو انسانی زندگی میں اختیار کرنا انسان کے آگے جھکنا نہیں ہے بلکہ وہ خدا کے آگے جھکنا ہے۔ یہ کسی انسان سے موافقت نہیں بلکہ خود خدا سے موافقت ہے۔ ایسے موقع پر موافقت کی روش کو وقار کا مسئلہ بنانا گویا خدا کے آگے سرکشی کرنا ہے ، اور کون ہے جو خدا کے آگے سرکشی کر کے اس دنیا میں کامیابی حاصل کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues