Al-Risala · January 1998 · page 47

دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷

نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی ۔ انہوں نے بتایا کہ چندر شیکھر آزاد ۱۹۳۱ء سے پہلے کے ہندوستان کی علامت ہیں۔ آج ہمیں نئے قسم کے نوجوان درکار ہیں، وہ نوجوان جو دیش میں نیشنل کیریکٹر لانے کی کوشش کریں۔

سورج کنڈ (ہریانہ) میں سوادھیائے موومنٹ کی طرف سے ۲۷- ۲۹ جنوری ۱۹۹۷ء کو ایک میٹنگ ہوئی جس میں مختلف مقامات کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ہندوستان میں تعمیر نو کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں تقریباً وہی باتیں کہی گئیں جو اس سے پہلے پائیر ۲۶ جنوری ۱۹۹۷ء میں چھپ چکی ہیں۔ ایک پوائنٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندو مذہب کا فلسفہ مانزم (وحدت الوجود) کے اصول پر قائم ہے جبکہ اسلام کا مذہبی تصور مانو تھیزم (توحید) پر مبنی ہے۔ اس معاملہ کو تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے شعبہ سوشل سائنس کی طرف سے یونیورسٹی کے کانفرنس روم میں ۲۶ مارچ ۱۹۹۷ء کو ایک میٹنگ ہوئی جس کا موضوع شریعت اسلامی میں نظام طلاق کا مسئلہ تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور اس موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا شرعی قانون کا غلط استعمال ہے، وہ شریعت کا مقرر طریقہ نہیں۔

۷۔ ۳۰مارچ کو امریکہ کے تین پروفیسر مرکز میں آئے۔ ان کے نام یہ ہیں : رابرٹ جی ورسک، جوزف ای شارٹس برگ ، اور ٹوبی شفائر ۔ یہ لوگ کشمیر اسٹڈی گروپ (امریکہ) کی طرف سے ہندوستان آئے تھے ۔ انہوں نے کشمیر کا مسئلہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ دونوں موضوعات کے بارے میں مفصل جوابات دئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کشمیر کے معاملہ میں دونوں ملکوں کو شملہ اگریمینٹ (۱۹۷۲) کے تحت عمل کرنا چاہئے ۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں اس معاہدہ کے پابند ہیں جس پر دونوں ملکوں کے وزیر اعظم نے دستخط کئے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page