سفر امریکہ - ۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹
دعوتی کام کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ گفت گو کے دوران مولانا سید حسین احمد مدنی اور اس حلقہ کے دوسرے علماءءءء کاذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ ان لوگوں کے تذکرہ میں لکھا رہتا ہے کہ ”حضرت کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی“ میں ان علما کے اخلاص اور دین داری کا قائل ہوں۔ مگر انگریز تو ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتے تھے، اور مدعو کے لیے نصح (خیر خواہی) کا حکم ہے۔ پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ علما انگریزوں سے نفرت کیوں کرنے لگے۔ مذکورہ پاکستانی عالم نے علما کی اس منفی روش کو جائز ثابت کرنا شروع کر دیا۔
میں نے کہا کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں مغربی دنیا میں اگر دعوت کا کام کرنا چاہتا ہوں، اور مغربی لوگوں کے لیے آپ کے سینہ میں خیر خواہی اور محبت نہیں۔ پھر آپ دعوت کا کام کیسے کریں گے۔ میں نے کہا کہ آج کل لوگوں نے دعوت کا کام یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسلام کی بالاتری ظاہر کر کے دوسری قوموں کے اوپر فخر کریں۔ یہ دعوت نہیں ہے بلکہ یہ قوم پرستی ہے۔ دعوت یہ ہے کہ دوسروں کو آپ اپنے جیسا انسان سمجھیں۔ آپ کے دل میں ان کے لیے محبت ہو۔ ان کی اصلاح کی خاطر آپ ان کی زیادتیوں کو نظر انداز کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ آپ ان کی نجات کے حریص بن جائیں۔ اس کے بغیر جو دعوتی کام کیا جائے گا وہ ایک مذاق ہو گا نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت الی اللہ۔ جولائی۔ اگست 1996 میں اٹلانٹا میں اولمپیک کھیل ہوئے تھے۔ اس موقع پر شروع اگست میں وہاں پائپ بم پھٹا تھا جس سے کافی سرا یمگی پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے چند دن بعد امریکی پریذیڈنٹ کلنٹن ٹی وی پر آئے۔ انھوں نے بم حادثہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بہت افسوس ناک ہے۔ مگر ہم کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ ثبوت کے بغیر فوری طور پر کسی کو مجرم سمجھ بیٹھیں۔ Let's not jump to any conclusions. ایسے مواقع پر پہلے یہ ہوتا تھا کہ فوراً مسلمانوں پر شبہ کیا جانے لگتا تھا۔ مگر حال میں متعدد واقعات ایسے پیش آئے جن میں تحقیق سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کے بعد فوراً مسلمانوں پر شبہ کرنے کا مزاج ختم ہو گیا۔ یہ بھی ایک سبق آموز بات ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرہ میں تو یہ حال ہے کہ خواہ کچھ بھی ثابت ہو جائے، ایک بار اگر رائے خراب ہو گئی تو وہ ہمیشہ خراب ہی رہے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues