سفر امریکہ - ۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳
کو ہوٹل کے اندر دیکھ کر کئی امریکی لڑکے اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کو باہر بھگا دیا۔ اس واقعہ کا محمد علی کے کل پر سخت اثر ہوا۔ روم کا تمغہ (جس کو سفید فام ممبروں پر مشتمل کمیٹی نے دیا تھا) اس کو اس نے غصہ میں دریائے اوہائیو (Ohio) میں پھینک دیا۔ اب اٹلانٹا میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں مشعل روشن کرنے کے لیے جب اس کو بلایا گیا تو انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی کے سفید فام پریسیڈنٹ (Juan Antonio Samaranch) نے سابقہ تمغہ کے بدل کے طور پر دوسرا طلائی تمغہ خود الینے ہاتھ سے ۴ اگست ۱۹۹۶ کو محمد علی کے کی گردن میں پہنایا۔ امریکی نوجوانوں کا مذکورہ فعل وقت کے تقاضے کے خلاف تھا۔ چنانچہ آخر کار وقت کا تقاضا غالب آیا اور محمد علی کو زیادہ شاندار طور پر امتیازی تمغہ سے نوازا گیا۔ بزنس پروموشن کے لیے یہاں جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی چیز کی خریداری پر مزید ایک چیز تحفہ میں دی جائے۔ مثلاً گاہک نے دکان سے ایک تھر ماس خریدا تو اس کو ایک بال پن تحفہ کے طور پر مفت دیا جائے ۔ اس کو ایک جملہ میں اس طرح کہا جاتا ہے : “Buy one, get one free”
تاجر اس انسان کا نام ہے جو قیمت لے کر چیز فراہم کرنے کے اصول کو جانتا ہو ۔ مگر اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں پانے کے لیے بھی دینے والا بننا پڑتا ہے۔ یہاں جو لوگ دینے والے بنیں وہی لوگ پانے والے بنیں گے ۔ اس کے برعکس جو لوگ یہاں صرف پینے والے بن کر رہنا جانتے ہوں، وہ کبھی پانے والے نہیں بن سکتے۔
امریکہ میں اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر مسلم صوفیوں سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک محمد رحیم باوا محی الدین تھے۔ وہ سری لنکا سے تعلق رکھتے تھے، اور بالکل ناخواندہ تھے ۔ وہ امریکہ آئے ۔ وہ اپنی گفتگوؤں اور تقریروں میں ، عام صوفیوں کی زبان میں بولتے تھے۔ ایک صاحب کے الفاظ میں، انھوں نے اسلام کو رحمت اور محبت اور امن اور اتحاد کے مذہب کی حیثیت سے پیش کیا :
He proclaimed an Islam of mercy and compassion, an Islam of peace and unity.
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues