Al-Risala · September 1998 · page 36

سفر امریکہ - ۲

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶

بہاریوں کو پاکستان یں لایا جائے گا۔ دفتر خارجہ عوام، نیویارک ، ۲۳ - ۲۹ اگست ۱۹۹۶ میں نے ایک پاکستانی بزرگ سے کہا کہ جب پاکستان میں بھی وہی ہونا تھا جس کا الزام آپ لوگ انڈیا پر ڈالتے ہیں تو پھر علحدہ پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے بانیوں (اقبال، جناح) کے ذہن میں پاکستان کا نقشہ کچھ اور تھا۔ میں نے کہا کہ اقبال اور جناح ہمیشہ تو نہ زندہ رہنے والے تھے۔ انھیں جاننا چاہیے تھا کہ ان کے مرنے کے بعد جو لوگ پاکستان کے وارث ہوں گے وہ کیسے ہوں گے۔ میں نے کہا کہ ایک کار چلانے کے لیے بھی پیشگی اندازہ (advance anticipation) بھوتزوری سمجھا جاتا ہے۔ پھر قوم و ملک کو چلانے کے لیے تو پیشگی اندازہ کی اہمیت اور بھی زیادہ تھی۔ پھر آخر یہ کس قسم کے لیڈر تھے جنھوں نے آگے کا اندازہ کیے بغیر قوم کو گڑھے کی طرف دوڑا دیا۔

اگست ۱۹۹۶ کے آخری ہفتہ کی امریکی خبروں میں سے ایک خبر یہ تھی کہ پریسیڈنٹ کلنٹن کے ایک اہم مشیر ڈک مورس (Dick Morris) کے بارہ میں یہاں کے ایک اخبار اسٹار (Star) نے یہ خبر چھاپی کہ ایک کال گرل کے ساتھ ان کا افیئر چل رہا ہے۔ اس کے فورا بعد مذکورہ مشیر (aide) نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ یہاں کے ایک اخبار نے اس کو اچانک زوال (sudden downfall) سے تعبیر کیا تھا۔

امریکی زندگی کا یہ ایک عجیب پہلو ہے کہ یہاں افراد کو آخری حد تک آزادی حاصل ہے۔ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ امریکی کلچر کا ایک تسلیم شدہ حصہ بن چکا ہے۔ لیکن حکومتی ذمہ دار کو وہ اس سے اوپر دیکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اگر کبھی کسی ذمہ دار کے بارہ میں اس قسم کی کوئی خبر اخبار میں آجائے تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ کر الگ ہو جائے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ حدیث میں ہے کہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تمثیل کی زبان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پسلی کی طرح اس کے مزاج میں ایک ” ٹیڑھھ “ ہے۔ یہاں ٹیڑھ کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر زیادہ جذباتی (emotional) واقع ہوئی ہے۔ عورت جب کسی معاملہ میں جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو جائے تو مرد کو چاہیے کہ وہ اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page