سفر امریکہ - ۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷
کی رعایت کرے۔ اس کے برعکس اگر وہ جوابی شدت اختیار کرے گا تو یہ عورت کی شخصیت کو توڑنے کے ہم معنی بن جائے گا۔
خواجہ کلیم الدین صاحب کے صاحبزادے بلال صاحب اور لقمان صاحب نے میری کچھ تقریر ویڈیو پر ریکارڈ کر لی۔ ایک تقریر میں میں نے کہا کہ ایمان اور دعوت دونوں لازم وملزوم ہیں۔ ایمان ایک عظیم معرفت ہے۔ اور کوئی چیز اگر آدمی کو معرفت کے درجہ میں ملے تو وہ عین اپنی فطرت کے مطابق چاہنے لگتا ہے کہ وہ اس کا اعلان کرے۔ کوئی عظیم معرفت سینہ میں چھپی ہوئی نہیں رہ سکتی وہ لازماً باہر آکر رہے گی۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں دعوت زندہ نہیں ہے ، اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو معرفت والا ایمان حاصل نہیں۔
دوسری تقریر میں میں نے کہا کہ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ اے رسول ، اللہ کی طرف سے تمہارے اوپر جو اترا ہے ، اس کو تم لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے اس کو نہیں پہنچایا تو تم نے پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا (المائدہ : ۶۷) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے بعد یہ کام آپ کی نیابت میں آپ کی امت کی ذمہ داری ہے۔ امت جب نائب رسالت یا قائم مقام رسالت ہوگی تو اس کے بعد باعتبار نوعیت امت کی حیثیت وہی ہوگی جو اس سے پہلے پیغمبر کی تھی ۔ ۲۶ اگست کو جناب عبدالرحیم چشتی حیدر آبادی (۶۷ سال) سے ملاقات ہوئی، وہ انجینئر ہیں۔ حیدر آباد سے وہ پاکستان چلے گئے۔ اس کے بعد امریکہ آکر آباد ہوگئے ۔ انھوں نے بتایا کہ حیدر آباد کے قاسم رضوی نہایت کامیاب مقرر تھے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ حال تھا کہ لوگ لکچر کو چھوڑ کر ان کی تقریر سننے کے لیے آیا کرتے تھے۔ میں بھی انھیں میں سے ایک تھا۔ انھوں نے کہا کہ قاسم رضوی مخلص مگر بے وقوف تھے۔ بلکہ مولانا آزاد کو چھوڑ کر ہندوپاک کے تمام مسلم لیڈ ربے وقوف ہی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۶۰ء میں لاہور میں میری ملاقات قاسم رضوی سے ہوئی ۔ میں نے کہا کہ آپ نے تو مسلمانوں کو مروادیا۔ قاسم رضوی کچھ دیر چپ رہے۔ پھر بولے : میاں تم ٹھیک کہتے ہو، مجھ سے غلطی ہوئی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues