Al-Risala · September 1998 · page 38

سفر امریکہ - ۲

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸

میں نے کہا کہ "آزاد حیدر آباد" کی تحریک تو سراسر حماقت تھی۔ حیدر آباد چاروں طرف سے انڈین یونین سے گھرا ہوا تھا، پھر وہ آزاد ملک کیسے بن سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان تو جذباتی لوگ ہیں، وہ حقیقت کو کہاں دیکھتے ہیں۔ اس زمانہ میں ایسا طوفان تھا کہ جو اس کے خلاف بولے اس کے لیے جینا مشکل ہو جاتا تھا۔ چنانچہ ابو الحسن صاحب اس کے خلاف بولے تو مسلمانوں نے ان کو غدار قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے ہندوستانی مسلمانوں کی بہت فکر ہے۔ میں نے کہا کہ پھر ہندوستانی مسلمانوں کے لیے آپ کا کیا مشورہ ہے۔ انھوں نے کہا؛ پڑھیں، بے تحاشا پڑھیں ۔

میں نے کہا کہ آپ مولانا ابوالکلام آزاد کو ایک لائق رہنما سمجھتے ہیں، پھر مسلمانوں نے ان کی قدر کیوں نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ تعلیمی کمی کی وجہ سے مسلمانوں میں تجزیہ (analysis) کی طاقت نہیں۔ اور کوئی تجزیہ کرکے انھیں بتائے تو اس کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تجزیاتی مطالعہ میں تنقید ہوتی ہے ۔ بے لاگ ہو کر بولنا پڑتا ہے۔ مسلمان اس قسم کے مطالعہ کی اہمیت کو نہیں جانتے ، اس لیے وہ گہری حقیقتوں سے باخبر بھی نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں کھل کر تجزیہ و تنقید ہوتی ہے، اس لیے ہر بات کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ مگر مسلم قوموں میں اس قسم کے حقیقت پسندانہ مطالعہ کا وجود نہیں۔

۲۷ اگست کی شام کو دو مسلم امریکی خاتون میری رہائش گاہ پر آئیں ۔ ان کے کچھ ذاتی سوالات تھے جن کا میں نے جواب دیا۔ پھر ان کو کچھ حدیثیں سنائیں۔ ایک خاتون کا مسئلہ یہ تھا کہ اسلام کے بعد ان کے شوہر سے جدائی ہو گئی تھی۔ اور اب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ نئی زندگی کس طرح شروع کریں ۔ دوسری خاتون کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے دو بچے تھے۔ وہ امریکی سوسائٹی کے اثرات قبول کر رہے تھے ۔ اب وہ جاننا چاہتی تھیں کہ بچوں کو ماحول کے اثرات سے کس طرح بچائیں ۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس زمانہ میں ولی وہ ہے جو پیسہ کے پیچھے نہ بھاگے۔ نماز اور حج اور تہجد پر عمل کرنا آسان ہے۔ کیوں کہ وہ آپ کی زندگی کے نقشہ کو درہم برہم نہیں کرتا۔ مگر جب آدمی یہ فیصلہ کرے کہ وہ پیسہ کے پیچھے نہیں بھاگے گا تو یہ اپنے آپ سے اور سارے ماحول سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page