Al-Risala · September 1998 · page 39

سفر امریکہ - ۲

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹

اسنا (ISNA) کی طرف سے ایک میگزین پلین فیلڈ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام اسلامک ہورائزن (Islamic Horizon) ہے۔ اس کے شمارہ جولائی - اگست 1996ء میں ایک غیر مقیم کشمیری لیڈر کی طرف سے انڈیا کے خلاف پر شور بیان شائع ہوا تھا۔ اس میں ہندوستانی مظالم“ کا ذکر کرنے کے بعد اس معاملہ میں بین الاقوامی برادری کی خاموشی کی شکایت کی گئی تھی، اور کہا گیا تھا کہ یہ خاموشی صرف کشمیر کی خوں ریزی میں مزید اضافہ کرے گی :

The silence of the international community will only result in more bloodshed in the ravaged land. (p. 14)

یہ شکایت نہایت عجیب ہے۔ اس لیے کہ یہی نام نہاد مسلم لیڈر شپ ہے جو رات دن یہ اعلان کرتی رہتی ہے کہ بین الاقوامی برادری اسلام دشمن ہو گئی ہے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتی رہتی ہے۔ ایسی حالت میں اس مسلم دشمن برادری سے یہ امید رکھنا کہ وہ مسلمانوں کی تباہی کا خاتمہ کرے گی، بلاشبہ لغویت کی حد تک احمقانہ بات ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ کیوں اس قسم کی بے معنی باتیں کرتا ہے۔ عقل کے اس دیوالیہ پن کی مثال شاید دنیا کی کسی اور قوم میں موجود نہیں۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کی مسلم دنیا میں مخلص افراد تو بے شمار ہیں۔ مگر وہ آدمی سرے سے اس زمانہ کی مسلم دنیا میں موجود نہیں جس کے اندر ساؤنڈ تھنکنگ کی صفت پائی جاتی ہو۔

میں نے سنا تھا کہ امریکہ میں جو عرب آباد ہیں ان کے بچے عربی سے بے بہرہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے بتایا جو عربوں سے قریب رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عرب بچوں کے والدین ٹیوٹر رکھ کر انھیں عربی زبان پڑھانا چاہتے ہیں مگر بچے پڑھ نہیں پاتے۔ اس کا خاص سبب یہ ہے کہ عرب اپنے گھروں میں عامی زبان بولتے ہیں اور ٹیوٹر ان کو فصیح زبان پڑھانا چاہتا ہے۔ عرب بچے اگرچہ گھر کے اندر عامی زبان سنتے ہیں، مگر ٹیوٹر کے ذریعہ پڑھائی جانے والی فصیح زبان الگ زبان کی طرح نظر آتی ہے۔ انھیں مشکل معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زبان کے ساتھ ایک نئی زبان سیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ عربوں کی بولی اگر وہی ہوتی جو فصیح عربی ہے تو یہ تضاد نہ ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page