سفر امریکہ - ۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰
اور ان کے بچوں کے لیے عربی سیکھنا آسان ہوجاتا۔ اب عربی سیکھنے کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ ایک معلوم زبان کی صرف کتابت کو سیکھ رہے جس زبان کو وہ صرف بول رہے تھے اس کو پڑھنا بھی سیکھ رہے ہیں۔
امریکہ میں فیونرل ہوم ہوتے ہیں۔ موت ہونے کے بعد ٹیلی فون کرکے فوراً اپنے مردہ کو فیونرل ہوم کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔ وہ لاش کو اٹھالے جاتے ہیں اور اس کے تمام رسوم ادا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ میت کو قبر میں اتارنے کا کام آدمی کے ہاتھ نہیں کرتے بلکہ کرین اس خدمت کو انجام دیتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ یہاں عیسائیوں اور یہودیوں کے فیونرل ہوم ہیں، مگر مسلمانوں کے فیونرل ہوم موجود نہیں ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ اسرائیل میں سیاہ فام یہودی اور سفید فام یہودی کے درمیان زبردست امتیاز ہے مثلاً وہاں کے ایک اسپتال میں سیاہ فام یہودی کا خون لیا گیا۔ اس کو جس بوتل میں رکھا گیا، اس پر لکھ دیا گیا کہ اس کو استعمال نہ کریں۔ مطلب یہ کہ وہ پھینکنے کے لیے ہے نہ کہ استعمال کرنے کے لیے۔ یہ معاملہ امریکہ کے اخبار میں چھپ گیا اور اس پر یہاں بڑا شور کیا گیا۔ مغربی ملکوں میں ایک بات کا مجھے بار بار تجربہ ہوا۔ مجھے کسی اجتماع میں خطاب کے لیے بلایا گیا۔ اور بتایا گیا کہ یہاں سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوں گے۔ اس کی رعایت سے وہاں میں نے جو تقریر کی اس میں اسلام کو خالص علمی انداز میں پیش کیا۔ آخر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ لیکن لوگوں کی طرف سے جو سوالات آئے وہ زیادہ تر عام قسم کے سوالات تھے۔ کوئی گہرا علمی سوال سامنے نہ آسکا۔ امریکہ کے سفر میں بھی اسی قسم کے تجربات ہوئے۔ یہاں ایک اجتماع میں مجھے شرکت کی دعوت دی گئی۔ اور صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ وہاں سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوں گے۔ اس لیے وہاں اسلام کے پیغام کو سائنسی انداز میں پیش کیا جائے۔ میں نے اللہ کی توفیق سے ایسا ہی کیا۔ مگر تقریر کے بعد جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو لوگوں کی طرف سے کوئی علمی اور فکری سوال پیش نہیں کیا گیا۔ میں نے وہاں اسلام کی فکری عظمت پر تقریر کی تھی۔ مگر سوالات جو کیے گئے وہ یہ تھے کہ __ فلاں جگہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ فلاں قوم ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے، اس پر آپ کیا کہتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues