سفر امریکہ - ۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱
غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ علمی سوال ہمیشہ علمی زندگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اونچی تعلیمی ڈگریاں تو لے لیتے ہیں مگر اس کے بعد عملاً وہ صرف مادی ترقی کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ زیادہ پیسہ کمانا اور شاندار زندگی کی تعمیر کرنا ، بس انھیں چیزوں پر ان کا ذہن لگا رہتا ہے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عملاً وہ صرف معاشی حیوان بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ذہنوں میں اونچے علمی سوالات پرورش ہی نہیں پاتے ، پھر وہ اونچے سوالات کس طرح کر سکتے ہیں۔
۲۸ اگست کو حسب معمول ہم لوگ نماز فجر کے بعد ٹہلنے کے لیے نکلے۔ تقریباً دو میل تک ہم لوگ سڑکوں پر ٹہلتے رہے۔ مگر کہیں اونچا نیچا نہیں ملا۔ ہر طرف ہموار سڑک تھی اور کسی خطرہ کے بغیر مسلسل ہم ٹہل سکتے تھے۔ جب کہ ہندوستان کے کسی بڑے سے بڑے شہر میں بھی ایسا ممکن نہیں۔ وہاں بار بار فٹ پاتھ کہیں اونچا ہوگا۔ کہیں گڑھا ہوگا ، کہیں فرش ٹوٹا ہوگا۔ کہیں کوڑ ا پڑا ہوگا۔ ٹھوکر سے بے فکر وہاں ٹہلنا ممکن نہیں۔
امریکہ میں آج کل خاندانی زندگی کا بہت چرچا ہے۔ اخبار ، ٹی وی، میٹنگ ہر جگہ اس کا ذکر ہے ۔ ہر جگہ خاندانی اقدار (family values) پر زور دیا جا رہا ہے۔ صدر امریکہ بل کلنٹن نے ایک ویلفیر بل پر دستخط کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں خاندانی زندگی اس حد تک ٹوٹ گئی ہے کہ وہ ایک قومی خطرہ نظر آنے لگی ہے۔
امریکہ میں پہلے آزادی کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ لوگوں کو یہ یقین کرایا گیا کہ مکمل انفرادی آزادی فرد کی شخصیت کے مکمل ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔ مگر اب یہ آزادی انار کی میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی شخصی ارتقاء کے لیے نہایت ضروری ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس کی ایک حد بھی ہے۔ آزادی اگر حد سے باہر ہو جائے تو وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے لگی۔
نیو یارک ٹائمس (۲۸ اگست) میں شیمان (Serge Schememann) کی ایک رپورٹ تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسرائیل میں بھی کم وبیش وہی جھگڑے ہیں جو پاکستان میں ہیں۔ اسرائیل میں ایک طرف سیکولر یہودی ہیں جو وہاں سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف آرتھوڈ کس یہودی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues