Hope is back in America.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲
ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسرائیل یہودی مذہب کے نام پر بنا ہے ، اس لیے یہاں یہودی مذہبی قوانین جاری ہونے چاہئیں۔ ایک مذہبی یہودی نے کہا کہ ہماری اقدار کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے : What’s at stake is values. ۲۹ اگست کی رات کو ۱۰ بجے ٹی وی پر صدر امریکہ بل کلنٹن کی تقریر تھی۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے کلنٹن کو اگلے صدارتی الیکشن کے لیے دوسری بار اپنا نمايندہ بنایا ہے۔ یہاں کے رواج کے مطابق ، آج شکاگو میں پارٹی کی طرف سے بڑے پیمانہ پر ایک نیشنل کنونشن تھا۔ اس میں کلنٹن نے اپنی قبولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جو مفصل تقریر کی وہ امریکہ کے مختلف ٹی وی چینلوں پر لائیو ٹیلی کاسٹ کی گئی۔
میں نے یہ تقریر سنی۔ محسوس ہوا کہ بل کلنٹن میں خطاب کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ کلنٹن کی لمبی تقریر میں ایک جملہ نے مجھ کو اسٹرائک کیا تھا۔ عجیب بات ہے کہ اگلی صبح کو نیو یارک ٹائمس (۳۰ اگست) آیا تو اس نے اپنے صفحہ اول کی رپورٹ میں اسی جملہ کو اس کی سرخی بنایا تھا۔ وہ جملہ یہ تھا کہ امریکہ میں امید دوبارہ واپس آگئی ہے :
Hope is back in America.
کلنٹن نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہمیں تعلیم کی ہر سطح پر امتیاز (excellence) کو اپنا نشانہ بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مذہبی آزادی میں یقین رکھتا ہوں۔ میں تقریر کی آزادی میں یقین رکھتا ہوں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ لوگ محنت کے ساتھ کام کریں اور قانون کی پوری پابندی کریں :
I believe in religious liberty, I believe in freedom of speech, and I believe in working hard and abiding by the rules. ۳۰ اگست کو نماز جمعہ کے بعد تقریر سے فارغ ہوا تو ایک نوجوان الگ سے آکر ملے۔ انھوں نے کہا کہ میری بہن کی عمر ۳۰ سال ہو چکی ہے۔ مگر ابھی تک ان کا رشتہ نہ ہو سکا آپ ان کے لیے کوئی دعا لکھ دیں۔ میں نے دل میں دعا کی کہ خدایا اس خاتون کا کوئی مناسب رشتہ ہو جائے۔ پھر ان کو کاغذ پر ایک آیت لکھ کر دی اور کہا کہ اس کو فجر کے بعد دس بار، اور عشاء کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues