Hope is back in America.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳
بعد دس بار پڑھ لیا کریں۔ وہ یہ ہے : رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر (القصص - القصص:۲۴) ۲۹ اگست کی شام کو ہم لوگ نیو یارک کے ساحل اٹلانٹک کو دیکھنے کے لیے گئے۔ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندر ہے۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ کیسی عجیب نشانی ہے کہ سمندروں کے پانی میں نمک ملا دیا گیا ہے۔ نمک ایک محفوظ رکھنے والا عنصر (preservative) ہے۔ اس کی وجہ سے سمندر کا پانی خراب ہونے نہیں پاتا۔ اب دوسرا سوال یہ تھا کہ انسان نمکین پانی کو استعمال نہیں کر سکتا، اس کو میٹھا پانی چاہیے ۔ یہ ضرورت اس طرح پوری ہوتی ہے کہ پانی ہلکا عنصر ہے اور نمک اس کے مقابلہ میں بھاری ہے۔ چنانچہ گرمی کے موسم میں سمندر کا پانی بھاپ بن کر اڑتا ہے تو نمک نیچے رہ جاتا ہے اور صرف پانی نکل کر اوپر چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد دھوپ اور ہوا اور زمینی کشش کے زیر اثر یہ غیر نمکین میٹھا پانی بارش کی صورت میں برستا ہے اور دوبارہ زمین پر آکر انسان کی ضرورت پوری کرتا ہے۔
دو متضاد تقاضوں میں یہ توازن اتفاقی طور پر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی قادر مطلق ذہن ہو جو عالمی سطح پر اس کی منصوبہ بندی کرے۔ اس طرح کے بے شمار واقعات کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں جو تمام آوازوں سے زیادہ بلند آواز میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق اور ناظم ہے۔ اس کے بغیر نہ دنیا بن سکتی اور نہ وہ قائم رہ سکتی۔ ہمارے سامنے یہاں کا مشہور پل (suspension bridge) ہے جو اٹلانٹک کے دو جزیروں لانگ آئی لینڈ اور اسٹر پن آئی لینڈ کو ملاتا ہے۔ یہ ایک لٹکا ہوا پل ہے جو لوہے کے رسوں پر قائم کیا گیا ہے۔ وہ ایک کلومیٹر لمبا ہے۔ انڈیا میں اس کی مثال ہگلی کا پل ہے جو ہاوڑہ میں ہے۔
اٹلانٹک کے ساحل پر دیر تک بیٹھ کر ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ ہمارے یہاں آج کل عبادت کے مختلف ماڈل رائج ہو گئے ہیں ۔ حنفی ماڈل، سلفی ماڈل ، وغیرہ۔ مگر یہ سب کے سب فارم میں فرق کی بنیاد پر بنے ہیں۔ ایک سیٹ آف فارم ان کا ہے اور دوسرا سیٹ آف فارم اُن کا۔ مگر عبادات میں اصل چیز اس کی داخلی اسپرٹ ہے، اور اس پر زور کسی کے یہاں بھی نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues