Hope is back in America.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴
نیو یارک گویا امریکہ کا بمبئی ہے۔ بمبئی کے مقابلے میں یہاں کم از کم دس گنا زیادہ کاریں ہوں گی۔ ان میں تقریباً ۹۹ فی صد بڑے سائز کی گاڑیاں ہیں۔ مگر نیو یارک میں بمبئی کے مقابلے میں بہت کم پولیوشن ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ یہاں کی گاڑیوں میں ایک کنورٹر (converter) لگا ہوتا ہے۔ پٹرول جلنے کے بعد اس سے دھواں (گیس) نکلتا رہتا ہے۔ کنورٹر یہ کرتا ہے کہ وہ مضر گیس کاربن مونوساکسائڈ (carbon monoxide) کو کم مضر گیس کاربن ڈائی آکسائڈ (carbon dioxide) میں تبدیل کر دیتا ہے۔ گاڑی کے چلنے کے دوران اس کے اندر یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ ۳۰ اگست کو جمعہ تھا۔ پروگرام کے مطابق مجھے مسلم سنٹر نیو یارک میں جمعہ کا خطبہ دینا تھا اور نماز پڑھانا تھا۔ ہم لوگ ساڑھے گیارہ بجے روانہ ہو کر ڈیڑھ گھنٹہ میں وہاں پہنچے۔ خطبہ میں مسنون عربی مضمون کے ساتھ میں نے انگریزی میں نماز کی بابت کچھ باتیں کہیں۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز کا ایک ظاہری پہلو ہے اور دوسرا اس کا داخلی پہلو ہے۔ دونوں کی اہمیت ہے۔ اور نماز کا حقیقی فائدہ اس وقت مل سکتا ہے جب کہ نماز کی ظاہری ہیئت بھی اچھی طرح ادا ہو، اور اس کی داخلی اسپرٹ (خشوع) بھی پوری طرح پائی جائے ۔
خطبہ کا وقت ہونے لگا تھا۔ میں خطبہ ختم کر کے منبر سے اترا کہ نماز پڑھاؤں اس وقت مرکز کے ذمہ دار آگئے۔ انھوں نے کہا کہ خطبہ چند منٹ پہلے ختم ہو گیا ۔ کچھ لوگ جو دفاتر میں کام کرتے ہیں وہ خطبہ میں شریک نہیں ہو پاتے ۔ وہ ٹھیک ڈیڑھ بجے آتے ہیں تاکہ تکبیر اولی کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جائیں۔ آخر یہ طے ہوا کہ نماز میں قرائت لمبی کی جائے تاکہ کم از کم جماعت میں ان کی شرکت ہو جائے ۔
اس تجربہ کے بعد سنن ابی داؤد کی وہ روایت میری سمجھ میں آئی جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : من زار قوما فلا يمتهم ولیؤمهم رجل منهم (جو شخص کسی قوم میں جائے وہ ان کی امامت نہ کرے۔ خود ان کا اپنا آدمی امامت کرے)
اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ مقامی آدمی جو پہلے سے نماز کی امامت کر رہا ہے وہ وہاں کے حالات کو بخوبی جانتا ہے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھا سکتا ہے۔ جب کہ باہر کا آدمی مقامی حالات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کوئی ایسی بات کر سکتا ہے جو مقامی صورت حال
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues