Al-Risala · September 1998 · page 45

Hope is back in America.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵

سے مطابقت نہ رکھتی ہو اور اس کی وجہ سے غیر ضروری طور پر کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے۔ نماز جمعہ کے بعد دوبارہ مسجد میں ایک خطاب ہوا۔ اس خطاب میں آخرت اور جہنم سے متعلق کچھ حدیثیں پیش کیں اور ان کی تشریح کی۔

۲۱ اگست کو ظہر کی نماز کے بعد نیو یارک سے فلا ڈلفیا کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں دریا کے نیچے لمبی ٹنل تھی۔ میرے ساتھی نے کہا: "ہمارے یہاں پانی کے اوپر سے سفر ہوتا ہے یہاں پانی کے نیچے سے سفر ہو رہا ہے۔ یہ ۸۰ میل کا سفر تھا۔ پورا سفر جنان عن یمین وشمال (سبا-۱۵) کا منظر پیش کر رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف سر سبز قدرتی مناظر اور ان کے درمیان جگہ جگہ خوب صورت مکان، سڑک نہایت عمدہ اور اس کے اوپر پھسلتی ہوئی زرق برق گاڑیاں۔ پورا سفر ایک مسحور کن ماحول میں ہوا۔

آخر کار ہم لوگ بنسلیم (Bensalem) پہنچے جو فلا ڈلفیا کی ریاست میں واقع ہے۔ یہاں سب سے پہلے ہم لوگ جناب رئیس احمد انجینئر کی رہائش گاہ پر اترے۔ یہ ایک نہایت مرصع اور پرکشش مکان تھا۔ یہ تمام مناظر ذاتی طور پر تو میرے لیے کوئی کشش نہیں رکھتے تھے۔ کیوں کہ میں طبعی طور پر سادگی کا دلدادہ ہوں۔ میرے لیے ساری کشش صرف سادگی میں ہے۔ مگر ہمارے ایک پاکستانی ساتھی نے کہا کہ یہ چیزیں بھلااپنے ملک میں کہاں ہیں، اسی لیے تو ہمارے نوجوان دیوانہ ہو کر امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ "

مغرب کی نماز ہم لوگوں نے فلاڈلفیا کی مسجد فرنٹ اسٹریٹ میں پڑھی۔ یہاں مسجد میں میرا خطاب رکھا گیا تھا۔ میں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا کہ اسلام کا مقصد تعمیر شعور اور میکر بلڈنگ ہے۔ اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف مین ہے نہ کہ اسلامائزیشن آف اسٹیٹ یا اور کچھ۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک پاکستانی مسلمان سے میں نے پوچھا کہ امریکہ میں آپ لوگوں کے لیے پلس پوائنٹ کیا ہے اور مائنس پوائنٹ کیا۔ انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ ہماری فرسٹ جنریشن تو اپنی آئیڈینٹی باقی رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ مگر سیکنڈ جریشن اور اس کے بعد کی جریشن کے لیے اپنی آئیڈینٹی کو باقی رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ میں نے کہا کہ انسان تقابل کے تحت ایک کو لیتا ہے اور دوسرے کو چھوڑتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page