Hope is back in America.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶
آپ نے پاکستان اور امریکہ کا تقابل کیا تو امریکہ آپ کو اقتصادی اعتبار سے بہتر نظر آیا۔ اس لیے آپ پاکستان کو چھوڑ کر یہاں آگئے۔ اسی طرح آپ کی اگلی جنریشن اسلامی آئیڈنٹٹی پر اس وقت باقی رکھ سکے گی جب کہ اس کو امریکی کلچر کے مقابلہ میں اسلامی کلچر زیادہ اعلیٰ دکھائی دے گا۔ یہ کام موجودہ نسل کو کرنا ہے۔ مگر موجودہ نسل ڈالر کمانے میں اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اسے کسی اور کام کی فرصت نہیں۔
۳۱ اگست کی رات جناب فضل الرحمن صاحب کے مکان پر گزاری۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۷۳ء میں جب میں یہاں آیا تو کافی تلاش کے بعد میں نے ایک سروس حاصل کی۔ مگر اتفاق سے اس کے چند ہی دن کے بعد عید آگئی۔ میں نے چاہا کہ میں عید منانے کے لیے آفس سے ایک دن کی چھٹی لوں۔ میرے تمام دوستوں نے منع کیا کہ ابھی تو تم نے سروس جوائن کی اور ابھی تم چھٹی مانگو گے تو وہ چھٹی نہیں دیں گے بلکہ فائر کر دیں گے (سروس ختم کر دیں گے)، مگر میری طبیعت نہیں مانی۔ میں نے اپنے دفتر میں چھٹی کی درخواست دے دی۔ میرا سپروائزر ایک یہودی تھا۔ اس نے وہی بات کہی جس سے میرے دوستوں نے مجھے ڈرایا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ کوئی پاکستان نہیں ہے کہ ابھی آئے اور ابھی چھٹی۔ سروس اور عید دونوں تم کو ایک ساتھ نہیں مل سکتی۔ تم سروس یا عید دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر لو۔
اس نے کہا کہ ہم تم کو چھٹی تو نہیں دے سکتے، البتہ ہم تم کو فائر کر سکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ لنچ کے وقت تک میں تم کو مہلت دیتا ہوں۔ تم سوچ لو کہ تم کو سروس چاہیے یا عید۔ اس وقت تک تم مجھ کو بتادو۔ لنچ کے بعد اس نے پوچھا کہ کیا فیصلہ کیا۔ میں نے کہا کہ یہ میرا مذہب کا معاملہ ہے۔ اور اس معاملہ میں میں کمپرومائز نہیں کر سکتا۔ کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس نے کہا کہ جاؤ اپنی عید مناؤ کل کے لیے تمہاری چھٹی ہے۔ پھر اس نے کہا کہ تم اسی طرح ہمیشہ اپنے مذہب پر قائم رہنا :۔ Son, stand for your religious rights. فضل الرحمن صاحب کے مکان کے بیسمنٹ میں نماز با جماعت ادا کی۔ صبح سویرے ہی کافی لوگ آ گئے ۔ نماز کے بعد درس کی صورت میں ایک تقریر کی۔ اس میں اس آیت کو موضوع بنایا گیا تھا کہ : لقتد كان لكم ۔ ۔ ۔ (الاحزاب ۔ ۲۱)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues