Al-Risala · September 1998 · page 47

خبر نامه اسلامی مرکز - ۱۳۵

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷

خبر نامه اسلامی مرکز - ۱۳۵

۱۔ پرولائف میگزین (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ٹیلی فون پر ۲۸ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسجد میں جاکر نماز ادا کرنے کی اجازت عورتوں کو بھی پوری طرح حاصل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مسجد میں باجماعت نماز مردوں کے لئے لازمی ہے اور عورتوں کے لئے اختیاری۔ یہ عورتوں کے لئے بطور رعایت ہے۔ ۲۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر ریحان فضل نے ۴ مئی ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ۱۹۴۷ کے بعد ہندو مسلم تعلقات سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ میڈیا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ زیادہ تر سنسنی خیز خبروں کو رپورٹ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں صرف ”بیڈ نیوز“ میڈیا میں جگہ پاتی ہیں جب کہ وہ صرف ایک فیصد ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ۹۹ فیصد ”گڈ نیوز“ ہیں مگر میڈیا ان کو رپورٹ نہیں کرتا۔ اس لئے آپ لوگوں کا تاثر یہ بن گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت اچھی نہیں ہے۔ حالانکہ یہاں کے مسلمان بہت سے ملکوں سے بہتر ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔ ۳۔ ڈیلی ٹیلی گراف کی نمائندہ راج لکشمی بھٹا چاریہ نے ۵ مئی ۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو روزہ کے موضوع پر تھا۔ ان کو روزہ کا اسلامی تصور بتایا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ روزہ کا مقصد روحانی تزکیہ، اخلاقی ڈسپلن اور صبر کی تربیت ہے۔

۴۔ ریور نڈوالسن تھمپو (Reverend Valson Thampu) نے ٹائمس آف انڈیا کے لئے ۱۰ مئی ۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اہانت رسول کے مسئلہ سے تھا۔ ان کو بتایا گیا کہ اس موضوع پر ایک مستقل کتاب ”شتم رسول کا مسئلہ“ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ سوالات کے جواب میں زیادہ تر وہی باتیں کہی گئیں جو اس کتاب میں شائع ہو چکی ہیں۔

۵۔ امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمس کے نمائندہ ڈکسٹر فلکنس(Dexter (Dexter Filkins) نے ۱۳ مئی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page