Al-Risala · September 1998 · page 48

خبر نامه اسلامی مرکز - ۱۳۵

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸

۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستان اور پاکستان کے نزاع سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ تشدد کا طریقہ دونوں ملکوں میں سے کسی کے لئے بھی مفید نہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ دونوں اسٹیٹس کو (Stat- quo) پر راضی ہو جائیں۔

۔ میڈیکل کالج (کشمیر) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بہار کا ایک سفر کیا۔ ۲۳ مئی ۱۹۹۸ کو روانگی ہوئی اور ۲۶ مئی کو واپسی ہوئی۔ ۲۳ مئی کو پٹنہ میں پلینیٹریم (Planetarium) کے ہال میں ایک تقریر ہوئی۔ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں موجود تھے۔ تقریر کا موضوع تھا"مذہبی ہم آہنگی (Religious harmony) اس سلسلہ میں قرآن وحدیث کے حوالوں سے بتایا گیا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان کو عزت اور احترام دیا جائے خواہ وہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا۔

۔ ۷۔ بہا رکے سفر میں ۲۴ مئی ۱۹۹۸ کو کشمیر ہار میڈیکل کالج میں خطاب کا پروگرام تھا۔ یہ ایک بڑا جلسہ تھا جس میں اطراف کے ہندو اور مسلمان دونوں کثرت سے شریک ہوئے۔ یہاں صدر اسلامی مرکز کی تقریر کا موضوع مذہبی ہم آہنگی تھا۔ تقریر میں جو باتیں کہی گئیں اس میں سے ایک بات یہ تھی کہ تمام مذاہب کو ایک ثابت کرنے کا کوئی تعلق مذہبی ہم آہنگی سے نہیں ہے۔ مذہبی ہم آہنگی ٹالرنس اور باہم احترام کے جذبہ کے تحت آتی ہے نہ کہ یہ ثابت کرنے سے کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔

۔ ہندی اخبار نئی دنیا (اندور) کے نمائندہ مسٹر سدھانشوراجیو نے ۲۷ مئی ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ موضوع تھا"اسلام، ماڈرنٹی اینڈ اسٹیٹ" اس سلسلہ میں تفصیل کے ساتھ اسلام کا نقطہ نظر بتلایا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں پیشگی طور پر ایسی تعلیمات موجود ہیں کہ کوئی بھی نئی صورت حال اس کے لئے مسئلہ نہ بنے۔ جہاں تک اسٹیٹ کا تعلق ہے اسلام کا یہ نظریہ نہیں کہ مسلمان ہر جگہ لڑکر اسلام کا سیاسی اور قانونی نظام قائم کریں۔ اس معاملہ میں صحیح اسلامی نقطہ نظر یہ ہے کہ ساری کوشش فرد اور سماج کی اصلاح پر صرف کی جائے۔ جب کوئی سماج اصلاح یافتہ ہو جائے گا تو اس کے اندر سے اپنے آپ اسلامک اسٹیٹ ایمرج کرے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page